ایم ایل سی امیدواروں کے حلف ناموں سے دولت اور تعلیم کے راز
ایم ایل سی امیدواروں کے حلف ناموں میں دولت، قرض، تعلیم اور خاندانی تفصیلات سامنے آئیں، پون سنگھ اور نشانت کمار زیرِ بحث۔
پٹنہ: بہار قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) انتخابات کے لیے نامزد امیدواروں کے حلف نامے سامنے آنے کے بعد کئی دلچسپ اور اہم معلومات عوام کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ انتخابی دستاویزات میں امیدواروں کی جائیداد، بینک قرضوں، تعلیمی قابلیت، گاڑیوں اور خاندانی صورتحال سے متعلق تفصیلی معلومات درج ہیں، جن سے مختلف سیاسی شخصیات کی مالی اور تعلیمی حیثیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق، نامزدگی داخل کرنے والے امیدواروں میں سب سے زیادہ اثاثے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے امیدوار سنیل کمار سنگھ کے پاس ہیں۔ حلف نامے کے مطابق ان کی مجموعی دولت تقریباً 54 کروڑ روپے ہے۔ دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کی اہلیہ کے پاس سونے اور چاندی کے قیمتی زیورات بڑی مقدار میں موجود ہیں۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی امیدوار شیلا پنڈت قرض کے معاملے میں سب سے زیادہ زیرِ بار دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے اثاثوں کی مالیت اگرچہ تقریباً 30 لاکھ روپے کے قریب ہے، تاہم ان پر بینک کا قرض بھی خاصی رقم تک پہنچ چکا ہے۔معروف بھوجپوری گلوکار اور اداکار، نیز بی جے پی امیدوار پون سنگھ کی دولت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کے تازہ حلف نامے کے مطابق ان کے اثاثوں کی مالیت گزشتہ عام انتخابات کے مقابلے میں کئی کروڑ روپے بڑھ چکی ہے۔ ان کے پاس متعدد قیمتی گاڑیاں بھی ہیں جن میں لگژری گاڑیاں شامل ہیں۔ خاندانی تفصیلات میں ان کی اہلیہ جیوتی سنگھ کا نام درج ہے، جبکہ ازدواجی تنازع سے متعلق مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت بتایا گیا ہے۔
ادھر جنتا دل (یونائیٹڈ) کے امیدوار اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کی تعلیمی معلومات بھی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ حلف نامے کے مطابق وہ انجینئرنگ کی تعلیم مکمل نہیں کر سکے تھے اور مقررہ کورس کے چند سمسٹرز کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی۔ ان کے اثاثوں کی مالیت کئی کروڑ روپے بتائی گئی ہے جبکہ ان کے نام پر دو گاڑیاں بھی رجسٹرڈ ہیں۔
دیگر امیدواروں میں بی جے پی کے ڈاکٹر سنجے میوکھ، جے ڈی یو کی بھارتی مہتا، شیورانی دیوی پرجاپتی، بی جے پی کے انیل ٹھاکر اور ایل جے پی (آر) کے اشرف انصاری شامل ہیں۔ ان کے حلف ناموں میں بھی جائیداد، زیورات، تعلیم اور مالی حیثیت سے متعلق مختلف تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ انتخابی ماہرین کے مطابق ایسے حلف نامے ووٹروں کو امیدواروں کے مالی پس منظر اور عوامی زندگی کے بارے میں بہتر معلومات فراہم کرتے ہیں، جس سے انتخابی عمل میں شفافیت کو فروغ ملتا ہے۔





