نوجوانوں کی معافی پر مودی گھیرے میں، راہل گاندھی برس پڑے
راہل گاندھی نے مودی کے “گمراہ نوجوانوں” والے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا، نوجوانوں کو معاف نہیں بلکہ انصاف اور بہتر تعلیم درکار ہے۔
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے جس میں مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر کہا تھا کہ حکومت کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے بعض نوجوان “گمراہ” ہیں اور انہیں معاف کر دینا چاہیے۔چنئی میں ایم ڈی ایم کے رہنما وائیکو کی پارلیمانی خدمات پر مبنی کتاب “وائیکو اِن پارلیمنٹ” کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں طلبہ اور نوجوان مختلف مسائل کو لے کر سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ امتحانی نظام میں شفافیت، انصاف اور ایسی تعلیمی پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو مؤثر انداز میں کام کرے اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ایسے حالات میں وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ وہ نوجوانوں کو معاف کرتے ہیں، کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کے بقول یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر وزیر اعظم کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ ملک کے مستقبل یعنی نوجوانوں کو معاف کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اصل ضرورت نوجوانوں کے خدشات کو سننے اور ان کے مسائل کا حل نکالنے کی ہے، نہ کہ انہیں اس انداز میں مخاطب کرنے کی۔کانگریس رہنما نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے سیاسی و نظریاتی ساتھیوں، خصوصاً آر ایس ایس، کی سوچ ملک کی کثرت میں وحدت کے تصور سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، مذاہب اور روایات کا مجموعہ ہے، اس لیے ایسی سوچ جو اس تنوع کو کمزور کرے، ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کی جانب سے منعقد احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں جن میں بعض نوجوان وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔ ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد متعدد حلقوں کی جانب سے ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔بعد ازاں وزیر اعظم نریندر مودی نے انسٹاگرام پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ایسے نوجوان دراصل گمراہ ہیں اور انہیں سزا دینے کے بجائے معاف کر دینا چاہیے۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہوگئی، جہاں ایک طرف بعض رہنماؤں نے مودی کے مؤقف کو مثبت قرار دیا، جب کہ دوسری جانب اپوزیشن نے اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل کے حل پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔






