دو ریاستوں میں بی جے پی کو جھٹکا، خود احتسابی کا اعلان
تین ضمنی انتخابات میں بی جے پی دو نشستیں ہار گئی، ایک جیتی، قیادت نے نتائج کا جائزہ لے کر نئی حکمت عملی بنانے کا اعلان کیا۔
بھارت کی تین ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی ضمنی انتخابات کے نتائج نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اگرچہ گجرات کی ایک نشست اپنے پاس برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، لیکن بہار اور مدھیہ پردیش کی دو اہم نشستوں پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان نتائج کے بعد پارٹی کی مرکزی قیادت نے عوامی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے آئندہ حکمت عملی پر غور کرنے کا اعلان کیا ہے۔بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین نے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ پارٹی تینوں اسمبلی حلقوں کے عوام کے فیصلے کو مکمل احترام کے ساتھ قبول کرتی ہے۔ انہوں نے گجرات کے مانجل پور اسمبلی حلقے کے ووٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام نے ایک بار پھر بی جے پی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس پر وہ دل کی گہرائی سے ان کے ممنون ہیں۔انہوں نے مانجل پور سے کامیابی حاصل کرنے والے پارٹی امیدوار ستیندر بھائی پٹیل کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ یہ کامیابی بی جے پی کے کارکنوں، عہدیداروں اور مقامی تنظیم کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے کارکن ہر انتخاب میں پوری لگن کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں اور عوام کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔
نتن نبین نے بہار کی بانکی پور اور مدھیہ پردیش کی دتیہ اسمبلی نشستوں پر شکست کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں حلقوں میں پارٹی کو توقعات کے مطابق عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی، اس لیے ان نتائج کا سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی جے پی عوام کے درمیان مزید سرگرمی کے ساتھ جائے گی، ان کے مسائل کو سمجھے گی اور اعتماد کی بحالی کے لیے نئی توانائی اور عزم کے ساتھ کام کرے گی۔ادھر ضمنی انتخابات کے سرکاری نتائج کے مطابق بہار کی بانکی پور اسمبلی نشست پر جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے کامیابی حاصل کی، جسے ریاستی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح مدھیہ پردیش کی دتیہ اسمبلی نشست پر کانگریس کے امیدوار گھنشیام سنگھ فاتح رہے، جب کہ گجرات کی مانجل پور اسمبلی نشست پر بی جے پی کے ستیندر بھائی پٹیل نے اپنی جماعت کے لیے واحد کامیابی درج کرائی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ صرف تین اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات تھے، لیکن ان کے نتائج آئندہ سیاسی حکمت عملی، پارٹی تنظیم اور عوامی رابطہ مہم کے حوالے سے اہم اشارے فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی قیادت نے ان نتائج کو محض انتخابی شکست نہیں بلکہ مستقبل کی تیاری کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔






