پرانے مقدمے میں کانگریس امیدوار گرفتار، سیاسی تنازع بھڑکا
نندی گرام ضمنی انتخاب سے قبل ممتا کی حمایت کے بعد کانگریس امیدوار ملن پردھان کی گرفتاری سے سیاسی تنازع شدت اختیار کرگیا۔
مغربی بنگال کے نندی گرام اسمبلی حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب سے قبل جمعہ کے روز سیاسی سرگرمیوں میں اچانک تیزی آگئی۔ انتخابی میدان میں اس وقت بڑا موڑ آیا جب ممتا بنرجی کی قیادت والے گروپ کی امیدوار سنچیتا پردھان ڈے نے اپنا نامزدگی فارم واپس لے لیا۔ ان کی دستبرداری کے بعد ممتا بنرجی نے کانگریس کے امیدوار ملن پردھان کی حمایت کا اعلان کردیا۔ تاہم اس سیاسی پیش رفت کے کچھ ہی دیر بعد ملن پردھان کو پولیس نے گرفتار کرلیا، جس کے بعد نندی گرام کا انتخابی ماحول مزید گرم ہوگیا۔رپورٹس کے مطابق ملن پردھان کی گرفتاری ایک پرانے مقدمے کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ یہ معاملہ نندی گرام میں 2007 کے زمین حصول مخالف احتجاج سے متعلق بتایا جارہا ہے۔ گرفتاری کے بعد کانگریس کے کئی رہنماؤں نے پولیس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے انتخابی عمل کے تناظر میں اہم قرار دیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ امیدوار کی گرفتاری کا وقت خاص طور پر توجہ طلب ہے۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے ملن پردھان کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ کارروائی محض اتفاق نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ منصفانہ انتخابی مقابلے کے بجائے سیاسی اقتدار برقرار رکھنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کررہی ہے۔ انہوں نے انتخابی عمل سے متعلق دیگر بھی سخت الزامات عائد کیے۔کانگریس نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ نندی گرام ضمنی انتخاب سے پہلے پیش آنے والے واقعات جمہوری عمل کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ کانگریس کے مطابق، پہلے ممتا بنرجی کے گروپ کی امیدوار نے نامزدگی واپس لی اور اس کے بعد اس کے حمایت یافتہ کانگریس امیدوار کو پرانے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔
مغربی بنگال کانگریس کے صدر شوبھنکر سرکار نے بھی ملن پردھان کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اسے جمہوری عمل سے جوڑتے ہوئے الزام لگایا کہ کارروائی کا مقصد انتخابی مقابلے کو متاثر کرنا ہوسکتا ہے۔ تاہم ان بیانات میں عائد کیے گئے الزامات سیاسی جماعتوں کے دعوے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق الگ معاملہ ہے۔
ممتا بنرجی نے بھی گرفتاری کی ٹائمنگ پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کانگریس امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا اور اس کے فوراً بعد پولیس نے ملن پردھان کو گرفتار کرلیا۔ ممتا نے الزام لگایا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کے لیے پرانے مقدمات تلاش کیے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق گرفتاری کے وقت نے سیاسی سوالات کو مزید بڑھا دیا ہے۔اس پورے معاملے کے ساتھ ممتا بنرجی کی جماعت کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق تنازع بھی زیر بحث ہے۔ ممتا بنرجی نے پارٹی کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق کارروائی پر ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت پر بی جے پی کی حمایت کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا، لیکن ان کی جماعت نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔
کولکاتا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ممتا بنرجی نے ماضی میں بعض علاقائی سیاسی جماعتوں میں ہونے والی تقسیم کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کو بھی مختلف مواقع پر سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ممتا نے کہا کہ ان کی جماعت طویل عرصے سے قائم ہے اور اس کے نام و انتخابی نشان سے متعلق فیصلہ ان کے لیے قابل اعتراض ہے۔نندی گرام میں موجودہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہوگئی ہے کہ امیدوار کی دستبرداری کے بعد ممتا بنرجی نے کانگریس امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا اور اس کے بعد ملن پردھان کی گرفتاری عمل میں آئی۔ اس سلسلے نے انتخابی مقابلے کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے درمیان الزام تراشی کو بھی تیز کردیا ہے۔
اب معاملے کی قانونی پیش رفت پر توجہ مرکوز ہے۔ ملن پردھان کے خلاف درج پرانے مقدمے کی نوعیت، گرفتاری کی قانونی بنیاد اور عدالت میں ہونے والی کارروائی سے مزید صورتحال واضح ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب سیاسی جماعتیں اس واقعے کو اپنے اپنے نقطۂ نظر سے دیکھ رہی ہیں۔نندی گرام ضمنی انتخاب سے قبل نامزدگی کی واپسی، کانگریس امیدوار کو ممتا بنرجی کی حمایت اور اس کے فوراً بعد امیدوار کی گرفتاری نے مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نیا تنازع پیدا کردیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی اور قانونی پیش رفت متوقع ہے۔




