سیاسی بصیرت

انصاف کو بندوق پسند ہے !

پرشانت ماتھر

ہر انسان کی اپنی پسند ہوتی ہے اور یہ پسند بالکل ذاتی ہوتی ہے۔ اس پسند کے پس پردہ جذبات کارفرما ہوتے ہیں، بچپن کے تجربات ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ کچھ پسند موروثی ہوں۔ اس لیے ہمیں لوگوں کی پسند کا موازنہ یا اس کی تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
کسی کو لال رنگ پسند ہے تو کسی کو ہرا۔ کسی کو بھنڈی پسند ہے تو کسی کو کدو۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کروڑ پتی کو پہناوے میں کوئی دلچسپی نہ ہو، وہیں کسی فقیر کو دن میں آٹھ بار، ہر پہر کپڑے بدلنا پسند ہو۔ لیکن کسی بھی قیمت پر ہم ایک کو دوسرے سے بہتر نہیں مان سکتے۔ ہاں، لیکن ہم کسی حد تک یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ فلاں شخص کو یہ خاص چیز پسند کیوں ہے یا اس پسند کے پیچھے کیا وجہ ہے۔
میں یہ سب اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ مجھے حال ہی میں ایسا محسوس ہوا کہ انصاف کو بلیٹ پسند ہے۔
بریلی میں کچھ دن پہلے ایک صاحب گرفتار ہوئے کیونکہ انہوں نے ایک بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے نعرے لگائے،’گستاخ نبی کی سزا، سر تن سے جدا، سر تن سے جدا۔‘ ان کی ضمانت کی اپیل کوخارج کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ نعرہ ’جئے شری رام‘ یا ’اللہ اکبر‘ جیسے بے ضرر نعروں کی طرح نہیں ہے۔ اس نعرے میں لوگوں کو بھڑکانے کا ارادہ صاف نظر آ رہا ہے۔
وہیں، سال 2020 میں کئی بھیڑوں سے خطاب کرتے ہوئے انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما نے نعرہ لگایا تھا،’دیش کے غداروں کو، گولی مارو #لوں کو۔‘ اس پر برندا کرات نے عدالت میں اس نعرے کو اشتعال انگیز قرار دینے کی درخواست دی۔ لیکن نچلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک کسی کو بھی یہ نعرہ لگانے میں کوئی قابل گرفت جرم نظر نہیں آیا۔
بہت سے لوگوں کو اس فیصلے میں تعصب نظر آیا۔ ان سب سے میری درخواست ہے کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ان فیصلوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
ان دونوں نعروں میں دو الگ الگ ہتھیاروں کا استعمال ہوا ہے-ایک میں چاقو یا تلوار اور دوسرے میں پستول یا بندوق۔ گناہ کےنظریے سے تو دونوں ہتھیاروں کو برابرسمجھا جانا چاہیے، کیونکہ دونوں ہی ہتھیار اپنے اپنے طریقے سے چوٹ پہنچانے یا جان سے مار ڈالنے کا کام کرتے ہیں۔
بحث کے لیے فرق اور امتیاز کےسلسلے میں کئی طرح کے دلائل پیش کیے جا سکتے ہیں۔ چاقو یا تلوار بہت پرانے قسم کے ہتھیار ہیں، جبکہ پستول یا بندوق جدید ہیں۔ پستول سے آپ بغیر بتائے، بغیر اپنے جذبات ظاہر کیے، دور سے اور چھپ کر بھی وار کر سکتے ہیں۔ اس میں طاقت کا استعمال بھی کم ہے، کیونکہ اس کے استعمال میں صرف ایک گھوڑا دبانا پڑتا ہے؛ جھنجھٹ بھی کم ہے، کیونکہ آپ کے شکار کو جوابی حملہ کرنے کا موقع ہی نہیں مل پاتا۔
اس کے برعکس چاقو سے آپ کو قریب سے ہی وار کرنا پڑتا ہے، الا یہ کہ آپ کسی سرکس میں وہیل آف ڈیتھ کے کھیل میں چاقو پھینکنے کا کام نہ کرتے ہوں۔
چاقو کو کسی پر چلانے یا جسم میں داخل کرانے کے لیے بہت طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ چاقو کے معاملے میں یہ امکان بھی بہت زیادہ ہوتا ہے کہ آپ کے شکار کے پاس بھی چاقو ہو۔ نہیں بھی ہونے پر آپ کے شکار کے پاس اپنے آپ کو بچانے کا پورا موقع ہوتا ہے، یعنی کاٹ پیٹ، گتھم گتھا، اٹھا پٹخ۔
تو چاقو والا طریقہ نسبتاً کافی بھوندا ہے۔ لیکن کیا ان امتیازات کی بنیاد پر ہم پورے اعتماد کے ساتھ ایک ہتھیار کو دوسرے ہتھیار سے بہتر مان سکتے ہیں؟
اگر جذباتی طور پر دیکھا جائے تو دونوں طریقوں میں درد کی شدت کا پہلے سے اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کاٹنے یا مارنے والے نے شکار کےجسم کے کس حصے پر، کتنی دور سے، کس زاویے سے اور کتنی طاقت کے ساتھ وار کیا ہے، درد کی شدت ان ویری ایبلز پر منحصر کرتی ہے۔
اتنے سارے ویری ایبلز سے ظاہر ہے کہ درد کی شدت کے امکان تقریباً لامحدود ہو سکتے ہیں۔ دل میں چاقو یا بلیٹ لگی تو فوراً خاتمہ اور اگر جانگھ پر لگ گئی تو کئی دن تک ’باپ باپ‘ کرتے رہنا پڑ سکتا ہے۔
اس پیچیدہ دلیل کی بنیاد پر بھی چاقو اور پستول میں امتیاز کرنا منطقی نہیں لگتا۔ اور پھر درد برداشت کرنے کی صلاحیت بھی سب کی الگ الگ ہوتی ہے۔
آخرکار بہت سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ عدالت کے ان فیصلوں کے پسِ پردہ جذبات کی کارفرمائی ہے اور یہ پسند کا معاملہ ہے۔ انصاف کو بندوق پسند ہے۔ پسند پر سوال تو نہیں اٹھا سکتے، لیکن اس پسند کے پس پردہ وجوہات کو سمجھ سکتے ہیں۔

میرے خیال میں ایک اہم وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ انصاف ترقی پسند ہے۔ اس لیے اس کی یہ سوچ ہے کہ تشدد کے طریقے کو بھی جدید ہونا چاہیے۔ سماجی تشدد کے طور طریقوں میں ہمیں چاقو اورتلواروں سے یقینی طور پر آگے بڑھ جانا چاہیے۔
تو اب جب یہ صاف ہے کہ انصاف کو بلیٹ پسند ہے، تو مجھے لگتا ہے کہ یہ بات عدالتوں کو سرکاری طور پر پورے ملک کو بتا دینی چاہیے۔
اس سے لوگ بلاوجہ چاقو اورتلواروں پر وقت اور توانائی ضائع نہیں کریں گے۔ ایک ہی پسند کے ہتھیار استعمال کرنے پر مقابلہ برابری کا ہوگا۔
آج جب مذہب سے غداری اور ملک سے غداری کو برابر کا جرم مانا جا رہا ہے، اس بات کی منادی بہت ضروری ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں