سپریم کورٹ میں بڑا فیصلہ، ججوں کی تعداد 38 تک پہنچ گئی
پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کا بل منظور کرلیا، چیف جسٹس سمیت اب مجموعی تعداد 38 ہوگی۔
بھارتی پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق ایک اہم قانون سازی کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں چیف جسٹس سمیت ججوں کی مجموعی تعداد 34 سے بڑھ کر 38 ہو جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد عدالت میں زیر التوا مقدمات کے بوجھ کو کم کرنا، مقدمات کی جلد سماعت کو یقینی بنانا اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید مؤثر بنانا بتایا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ بل لوک سبھا سے بغیر کسی طویل بحث یا اختلاف کے منظور کر لیا گیا۔ بل کی منظوری کے بعد یہ قانون نافذ ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور اس کے عملی نفاذ کے ساتھ ہی سپریم کورٹ میں مزید ججوں کی تقرری کی جا سکے گی۔ پارلیمانی کارروائی کے دوران اس تجویز پر ایوان کی منظوری حاصل ہونے کے بعد اسے عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس قانون کے تحت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف انڈیا کے علاوہ مستقل ججوں کی مجاز تعداد 33 سے بڑھا کر 37 کر دی گئی ہے۔ اس طرح چیف جسٹس کو شامل کرنے کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کی کل تعداد 38 ہو جائے گی۔ حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے مقدمات اور عدالتی دباؤ کے پیش نظر ججوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا تاکہ شہریوں کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔یہ نیا قانون مئی 2026 میں جاری کیے گئے سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی آرڈیننس 2026 کی جگہ لے گا۔ آرڈیننس کے ذریعے جو عبوری انتظام نافذ کیا گیا تھا، اب اسے پارلیمانی منظوری ملنے کے بعد مستقل قانونی شکل دی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے عدالتی ڈھانچے کو زیادہ مستحکم بنانے اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق سپریم کورٹ کی استعداد بڑھانے میں مدد ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ججوں کی تعداد میں اضافے سے زیر التوا مقدمات کی سماعت کی رفتار بہتر ہو سکتی ہے، لیکن صرف ججوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق عدالتی ڈھانچے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، ماتحت عدالتوں میں خالی آسامیوں کی بروقت تکمیل اور انتظامی اصلاحات پر بھی یکساں توجہ دینا ضروری ہے تاکہ ملک کا عدالتی نظام زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست بن سکے۔حکومت کو امید ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں سپریم کورٹ کی کارکردگی میں بہتری آئے گی، مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کم ہوگی اور انصاف کی فراہمی کا عمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے گا۔






