پرشانت کشور کا بڑا دھماکہ، بانکی پور نے نئی تاریخ رقم کرد
بانکی پور ضمنی انتخاب میں پرشانت کشور نے بی جے پی کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی، عوامی مسائل اٹھانے اور سیاسی تبدیلی کا عزم دہرایا۔
بانکی پور اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے اس فتح کو بہار کی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نتیجہ صرف ایک نشست کی کامیابی نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے جو اب تک یہ سمجھتے تھے کہ ریاست کی سیاست میں تبدیلی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانکی پور کے عوام نے روایتی سیاسی سوچ سے ہٹ کر فیصلہ دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام بہتر متبادل کی تلاش میں ہیں۔پرشانت کشور نے کامیابی کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے دروازے صرف بانکی پور کے عوام کے لیے نہیں بلکہ بہار کے ہر اس شہری کے لیے کھلے ہیں جو موجودہ نظام سے مایوس ہے یا یہ محسوس کرتا ہے کہ جن سوراج اس کی آواز بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور عام لوگوں کے حقوق کی بات کرنے کا سلسلہ پہلے بھی جاری رکھے ہوئے تھے اور اب اسمبلی میں نمائندگی ملنے کے بعد یہ ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق وہ پہلے سے زیادہ قوت اور اعتماد کے ساتھ ریاست بھر میں عوام کے مسائل اٹھائیں گے۔
انہوں نے خاص طور پر نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بانکی پور کا انتخابی نتیجہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو سیاست میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ بہار میں صرف ذات پات کی بنیاد پر سیاست ہوتی ہے یا اقتدار دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی محدود رہتا ہے، لیکن اس ضمنی انتخاب نے ثابت کر دیا کہ اگر عوام کو قابل اعتماد متبادل ملے تو وہ نئے چہروں پر بھی اعتماد کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔پرشانت کشور نے کہا کہ یہ کامیابی نوجوان نسل کے لیے امید کا پیغام ہے۔ ان کے مطابق اگر نیت صاف ہو، عوامی خدمت کو مقصد بنایا جائے اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام کیا جائے تو سیاست میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے حامیوں اور بانکی پور کے ووٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچنے دیں گے اور عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
انتخابی نتائج کے مطابق پرشانت کشور نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار نیرج کمار کو 19,324 ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔ پرشانت کشور کو مجموعی طور پر 64,151 ووٹ حاصل ہوئے، جب کہ نیرج کمار 44,827 ووٹ لے سکے۔ یہ نشست بی جے پی کے ریاستی صدر نتن نبین کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے باعث یہاں ضمنی انتخاب کرایا گیا۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس نتیجے نے بہار کی آئندہ سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے اسمبلی انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔






