خلائی تاریخ کا نیا منظر، راکٹ چاند سے جا ٹکرائے گا
اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا بالائی حصہ 5 اگست کو چاند سے ٹکرائے گا، ناسا کے مطابق زمین کو کوئی خطرہ نہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق چاند ایک اور بڑی خلائی ٹکر کا سامنا کر سکتا ہے۔ اگرچہ چاند اپنی اربوں سالہ تاریخ میں بے شمار شہابی پتھروں، چھوٹے سیارچوں اور دیگر خلائی اجسام کی زد میں آتا رہا ہے، لیکن اس بار جس شے کے چاند سے ٹکرانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، وہ قدرتی نہیں بلکہ انسان کی تیار کردہ ایک خلائی مشین کا حصہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند کی سطح پر نظر آنے والے ہزاروں گڑھے اور وسیع کرِیٹر دراصل لاکھوں اور کروڑوں برسوں کے دوران ہونے والی انہی شدید ٹکروں کا نتیجہ ہیں۔ چونکہ چاند پر زمین جیسا ماحول اور فضا موجود نہیں، اس لیے وہاں بننے والے گڑھے طویل عرصے تک تقریباً اپنی اصل حالت میں محفوظ رہتے ہیں۔حالیہ برسوں میں مختلف ممالک کی خلائی ایجنسیوں نے چاند کی تحقیق کے لیے متعدد خلائی مشنز روانہ کیے ہیں۔ ان میں کئی چھوٹے خلائی جہاز، لینڈر اور دیگر آلات اپنے مشن مکمل کرنے کے بعد چاند کی سطح سے ٹکرا چکے ہیں۔ ان ٹکروں سے حاصل ہونے والا ڈیٹا سائنس دانوں کو چاند کی ساخت، مٹی اور اندرونی خصوصیات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اب امریکی خلائی ادارے ناسا نے اطلاع دی ہے کہ اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا بالائی حصہ (اپر اسٹیج) 5 اگست کو چاند کی سطح سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ حصہ تقریباً 2.43 کلومیٹر فی سیکنڈ، یعنی لگ بھگ 5,400 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے چاند تک پہنچے گا۔ اس رفتار کے باعث ٹکر کے وقت چاند کی سطح پر ایک نیا گڑھا بننے کی توقع کی جا رہی ہے۔ناسا کے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز کے مطابق اس خلائی ملبے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ اس کے راستے اور ممکنہ تصادم کے وقت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ ادارے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے زمین یا اس کے باشندوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں، کیونکہ راکٹ کا یہ حصہ زمین کے بجائے چاند کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ناسا کے ترجمان جمی رسل نے وضاحت کی کہ ادارہ اس خلائی ملبے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تصادم کے بعد چاند کی سطح پر بننے والے مقام کا سائنسی جائزہ بھی لیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس مشاہدے سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مصنوعی اجسام کی ٹکر سے چاند کی سطح پر کس نوعیت کی تبدیلیاں آتی ہیں اور مستقبل کے خلائی مشنز کی منصوبہ بندی میں اس معلومات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ واقعہ غیر معمولی ضرور ہے، لیکن اس سے کسی قسم کی عالمی تشویش پیدا ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس کے برعکس، یہ سائنسی تحقیق کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے، جس سے چاند کی سطح، خلائی ملبے کے اثرات اور مستقبل کی خلائی مہمات کے حوالے سے نئی معلومات حاصل ہونے کی امید ہے۔






