خبرنامہ

کیف پر قیامت خیز حملہ، روسی میزائلوں سے 21 افراد ہلاک

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ تازہ حملوں میں روس نے یوکرین کے مختلف شہروں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے بڑے پیمانے پر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق دارالحکومت کیف اور اس کے نواحی علاقوں کو اس حملے میں سب سے زیادہ نقصان پہنچا، جہاں رواں سال کا یہ سب سے ہلاکت خیز حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق کیف اور اس کے گردونواح میں 17 افراد جان کی بازی ہار گئے، جب کہ شمال مشرقی شہر خارکیف میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ اس کے علاوہ مشرقی صوبے دونیتسک میں بھی تین افراد کی جان جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حملوں کے باعث کئی رہائشی عمارتوں، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا، جس سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حملوں کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے ملک کو بروقت اور مناسب تعداد میں جدید انٹرسیپٹر میزائل فراہم کیے جاتے تو قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق فضائی دفاعی نظام کی کمی کے باعث روسی بیلسٹک میزائلوں کو مؤثر انداز میں روکنا ممکن نہیں ہو سکا، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔زیلنسکی نے ایک بار پھر اپنے مغربی اتحادیوں، خصوصاً امریکہ اور یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کو جدید فضائی دفاعی نظام اور پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کے لیے درکار انٹرسیپٹر میزائلوں کی فراہمی میں مزید تاخیر نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امدادی سازوسامان کی سست رفتار فراہمی جنگی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اور شہری آبادی مسلسل خطرات سے دوچار ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ رواں برس اتحادی ممالک کی جانب سے ملنے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی تعداد گزشتہ عرصے کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم رہی ہے، جس کے باعث یوکرین کے فضائی دفاع پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔ ان کے مطابق اگر جدید دفاعی وسائل بروقت دستیاب ہوں تو روسی میزائل حملوں کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ حملوں کا مقصد عام شہری نہیں بلکہ کیف اور اس کے اطراف موجود فوجی لاجسٹکس مراکز، اسلحہ ذخیرہ گاہوں اور فوجی رسد کے مراکز تھے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس نے ایسی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو یوکرینی افواج کی جنگی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔
ادھر بین الاقوامی سطح پر اس تازہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر جنگ اسی شدت سے جاری رہی تو نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان بڑھے گا بلکہ خطے میں امن کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ جنگ کے باعث لاکھوں شہری پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک پر کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر