کاکروچ جنتا پارٹی کا بڑا اعلان، قومی قیادت کا باضابطہ انتخاب
سی جے پی نے قومی ورکنگ کمیٹی تشکیل دے کر نوجوان قیادت مقرر کی، آئندہ چھ ماہ میں ملک گیر تنظیمی توسیع کا منصوبہ بھی پیش کردیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اپنی قومی تنظیم کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نیشنل ورکنگ کمیٹی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ اس نئی کمیٹی کےذریعے ابتدائی قومی ڈھانچے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور آئندہ چند ماہ میں تنظیم کو ملک بھر میں وسعت دینے کے لیے جامع منصوبے پر عمل کیا جائے گا۔پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، بانی رہنما ابھجیت دیپکے کو قومی کنوینر مقرر کیا گیا ہے، جب کہ آشوتوش رانکا اور سورو داس کو شریک کنوینر کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم تنظیمی امور کو منظم انداز میں آگے بڑھانے اور مختلف ریاستوں میں پارٹی کی موجودگی مضبوط بنانے پر توجہ دے گی۔
تنظیمی ڈھانچے کے تحت اجنکیہ شندے کو قومی تنظیمی امور کا انچارج بنایا گیا ہے، جب کہ دیپک بالیان کو اس شعبے میں معاون ذمہ داری دی گئی ہے۔ اسی طرح آفرین نواز کو قومی سیکریٹری، وجئے ریڈی ملانگی کو میڈیا امور، رتنا سنگھ کو قانونی معاملات، ویشنوی گور کو تحقیق و پالیسی، روہن دیش پانڈے کو ٹیکنالوجی اور یوگیش انگلے کو مالیاتی امور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔پارٹی نے ملک کو چار مختلف تنظیمی زونز میں تقسیم کرتے ہوئے ہر خطے کے لیے الگ انچارج بھی مقرر کیے ہیں۔ شمالی ہندوستان کی نگرانی دیپک بالیان، جنوبی ہندوستان کی ذمہ داری وجئے ریڈی ملانگی، مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں کی ذمہ داری انکیت بھاردواج جب کہ مغربی ہندوستان کی نگرانی یوگیش انگلے کے سپرد کی گئی ہے۔
سی جے پی کا دعویٰ ہے کہ قومی ورکنگ کمیٹی میں شامل تمام عہدیداروں کی عمر 35 برس سے کم ہے، جس سے پارٹی نوجوان قیادت کو آگے لانے کی اپنی پالیسی پر عمل کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق نوجوان قیادت جدید سیاسی سوچ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔پارٹی نے آئندہ چھ ماہ کے دوران تمام ریاستوں میں ریاستی رابطہ کمیٹیاں، لوک سبھا سطح کی تنظیمیں اور شہروں کی سطح پر رابطہ کمیٹیاں تشکیل دینے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے تاکہ تنظیمی ڈھانچے کو نچلی سطح تک مضبوط بنایا جا سکے۔بیان کے آخر میں پارٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال صرف انہی افراد کو باضابطہ عہدے دیے گئے ہیں جن کے نام اعلان میں شامل ہیں، اس کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو پارٹی کا عہدیدار مقرر نہیں کیا گیا۔ پارٹی نے کارکنوں اور حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری طور پر جاری ہونے والی معلومات پر ہی اعتماد کریں اور غیر مصدقہ دعوؤں سے گریز کریں۔






