دہلی ہائی کورٹ اور پٹنہ کورٹ سے خان سر کو راحت
خان سر کو دو عدالتوں سے بڑی راحت، پٹنہ سول کورٹ نے ان کی گرفتاری پر روک لگائی، جب کہ دہلی ہائی کورٹ نے فوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
پٹنہ/نئی دہلی: معروف ماہرِ تعلیم اور یوٹیوبر خان سر کو عدالتوں سے بڑی راحت ملی ہے۔ ایک جانب پٹنہ سول کورٹ نے ان کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے، جب کہ دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے مشہور نیوز اینکر انجنا اوم کشیپ اور ٹی وی ٹوڈے نیٹ ورک کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کے مقدمے میں فی الحال کوئی فوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پٹنہ سول کورٹ نے خان سر کے خلاف درج مقدمے میں ان کی گرفتاری پر عارضی روک لگا دی ہے۔ اسی مقدمے میں گرفتار کیے گئے ان کے دو سکیورٹی گارڈز کی ضمانت کی درخواست پر بھی عدالت آج اپنا فیصلہ سنانے والی ہے۔ اس عدالتی پیش رفت کو خان سر کے لیے ایک اہم قانونی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ادھر دہلی ہائی کورٹ میں خان سر اور متعدد دیگر اساتذہ کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ یہ مقدمہ معروف نیوز اینکر انجنا اوم کشیپ اور ٹی وی ٹوڈے نیٹ ورک کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ خان سر اور دیگر افراد نے ان کے لیے ’چاٹکار‘، ’دلال‘ اور ’دلالی کرنے والے‘ جیسے الفاظ استعمال کیے، جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزاروں کی جانب سے فوری پابندی عائد کرنے کی استدعا پر فی الحال کوئی حکم جاری کرنے سے گریز کیا۔ تاہم عدالت نے خان سر اور دیگر فریقین کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس درخواست پر اپنا جواب داخل کریں۔ عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے 17 جون کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے فوری حکم جاری نہ کرنا اور پٹنہ سول کورٹ کی جانب سے گرفتاری پر روک لگانا، دونوں فیصلے فی الحال خان سر کے لیے اہم قانونی راحت سمجھے جا رہے ہیں۔ اب تمام نظریں 17 جون کو دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت اور آج پٹنہ سول کورٹ میں سکیورٹی گارڈز کی ضمانت سے متعلق فیصلے پر مرکوز ہیں، جو اس پورے معاملے کی آئندہ سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔





