پٹنہ میں خان سر کے کوچنگ سینٹر پر حملہ، پولیس تحقیقات شروع
پٹنہ میں خان سر کے کوچنگ سینٹر پر توڑ پھوڑ، گارڈ زخمی، پولیس نے سی سی ٹی وی کی بنیاد پر تحقیقات شروع کردیں۔
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر پر حملے اور توڑ پھوڑ کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ منگل کی رات پیش آنے والے اس واقعے میں چند نامعلوم افراد مبینہ طور پر کوچنگ سینٹر کے اندر داخل ہوئے اور وہاں موجود سیکیورٹی گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ زخمی گارڈ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد خان سر رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے کوچنگ سینٹر پہنچے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ شرپسند عناصر نے سینٹر میں گھس کر ہنگامہ آرائی کی اور گارڈ پر حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق فائرنگ کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، میڈیا سے بات کرتےہوئے خود خان سر نے کہاکہ کئی راونڈ فائرنگ ہوئی ہیں۔ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے کوچنگ سینٹر کے اندر موجود سامان کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے فوری طور پر تحقیقات شروع کر دیں اور جائے وقوعہ کے سی سی ٹی وی فوٹیج اپنے قبضے میں لے لیے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیوز کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خان سر نے دعویٰ کیا کہ ان کے کوچنگ سینٹر کے ہزاروں طلبہ حال ہی میں بہار پولیس بھرتی امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں، جس کی خوشی میں ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔ ان کے مطابق تقریب کے بعد کچھ افراد نے کوچنگ سینٹر آ کر دھمکی دی کہ دو دن کے اندر ادارے کو تباہ کر دیا جائے گا۔انہوں نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا کہ اس حملے کے پیچھے بعض حریف کوچنگ اداروں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ خان سر کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ کم خرچ میں معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے کچھ لوگ ناراض ہیں۔ تاہم پولیس کی جانب سے ابھی تک اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
پٹنہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کارتکیہ شرما نے بتایا کہ ابتدائی جانچ میں چند طلبہ کے ملوث ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ ان کے مطابق پوسٹر پھاڑنے اور مارپیٹ کی واردات میں شامل افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔بدھ کی صبح کئی طلبہ کوچنگ سینٹر کے باہر جمع ہوئے اور حملے کے خلاف احتجاج کیا۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔





