خان سر کوچنگ ہنگامہ کیس، روشن آنند سمیت تین گرفتار
پٹنہ میں خان سر کے کوچنگ سینٹر پر توڑ پھوڑ کیس میں روشن آنند سمیت تین افراد گرفتار، عدالت نے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا۔
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں واقع خان سر کے کوچنگ کے باہر پیش آنے والے ہنگامے اور توڑ پھوڑ کے معاملے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گیان بندھو جی ایس اکیڈمی کے ڈائریکٹر روشن آنند المعروف روشن سر سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ عدالت میں پیشی کے بعد تینوں ملزمان کو عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔گرفتار ہونے والوں میں روشن آنند کے علاوہ ان کے دو ساتھی، گورو اور ابھیشیک بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی خان گلوبل اسٹڈیز کے منیجر کنہیا سنگھ کی شکایت پر درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر کی گئی۔ مقدمے میں چند نامزد افراد کے ساتھ متعدد نامعلوم افراد کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے۔
گرفتاری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روشن آنند نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں ایک منظم سازش کے تحت پھنسایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ پولیس کانسٹیبل بھرتی امتحان کے نتائج کے بعد بعض عناصر ان کے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واقعے کے دوران فائرنگ نہیں ہوئی، تاہم مخالف فریق کی جانب سے گولی چلنے کے دعوے کیے گئے۔دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں رات کے وقت کوچنگ سینٹر پر پتھراؤ اور مبینہ فائرنگ کی اطلاع ملی تھی۔ اطلاع ملنے پر پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی جانچ میں فائرنگ کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
واقعے کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں چند نوجوان کوچنگ سینٹر کے باہر ہنگامہ کرتے اور املاک کو نقصان پہنچاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بعض افراد نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے چہروں پر ماسک بھی پہن رکھے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فوٹیج کی مدد سے کئی مشتبہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔





