مخطوطات تحفظ پروگرام کے تحت ہری پور میں تاریخی مخطوطات کا معائنہ
گیان بھارتم قومی مخطوطات تحفظ مشن کے تحت ہری پور(امور) میں تاریخی مخطوطات کا معائنہ ، تحفظ، ڈیجیٹلائزیشن اور ورثے کے فروغ پر زور۔
حکومتِ ہند کے نہایت اہم پروگرام گیان بھارتم قومی مخطوطات تحفظ مشن کے تحت بدھ کے روز ضلع پورنیہ کے بلاک امور کے تاریخی گاؤں ہری پور کا دورہ ضلع آرٹ و ثقافت افسر جناب پنکج کمار پٹیل کی قیادت میں کیا گیا۔ اس موقع پر قدیم عربی، فارسی اور اردو مخطوطات کے ترجمہ اور تشریح کے لیے اردو مترجم جناب وسیم احمد علیمی اور معاون اردو مترجم جناب عبدالغنی بھی انتظامی ٹیم کے رکن کی حیثیت سے موجود تھے۔ہری پور پہنچنے پر سیمانچل کے معروف محقق اور ادیب مولانا رضوان ندوی اور قاضی خاندان کے معزز افراد نے انتظامی وفد کا پُرتپاک اور پرتکلف استقبال کیا۔ اس موقع پر قاضی خاندان کی جانب سے تقریباً سو سال پرانے نادر مخطوطات، دستاویزات اور تاریخی خطوط معائنہ کے لیے پیش کیے گئے۔
معائنہ کے دوران معروف فارسی و اردو شاعر قاضی نجم ہری پوری کی قلمی تخلیقات، شعری مخطوطات اور مختلف تاریخی خطوط پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ قاضی خاندان کی تاریخ سے متعلق قیمتی دستاویزات اور خطوط بھی دکھائے گئے، جن سے ہری پور اور قدیم پورنیہ کی سماجی، ثقافتی اور ادبی تاریخ کے متعلق اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔اس موقع پر مولانا رضوان ندوی نے قاضی خاندان کی تاریخ، ان کی ادبی روایت اور صدیوں سے فن، ثقافت اور علم کے میدان میں ان کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
قابلِ ذکر ہے کہ ہری پور کا قاضی خاندان مغلیہ دور سے لے کر آج تک ادب، فن، ثقافت اور سماجی قیادت کی شاندار روایت کا امین رہا ہے۔ یہ علاقہ معروف کتاب “آئینۂ پورنیہ” کے مصنف کی نسبت سے بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ پیش کردہ فارسی و اردو مخطوطات، خطوط اور شعری مجموعے تقسیمِ ہند سے قبل کے پورنیہ کی تاریخ، سماجی زندگی، ثقافتی ماحول اور اس دور کی علمی و فکری روایات کی اہم جھلکیاں پیش کرتے ہیں۔
ضلع آرٹ و ثقافت افسر جناب پنکج کمار پٹیل نے کہا کہ گیان بھارتم مشن کا مقصد ملک کی قدیم علمی روایت اور فکری وراثت کے تحفظ، ڈیجیٹلائزیشن اور اس کے وسیع فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ ایسے تاریخی دستاویزات اور مخطوطات ہماری مشترکہ ثقافتی میراث ہیں، جن کا تحفظ آنے والی نسلوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں دستیاب تمام مخطوطات کو گیان بھارتم پورٹل پر اپ لوڈ کر دیا گیا ہے۔دورے کے دوران قاضی خاندان کے متعدد افراد اور مقامی معزز شہری بھی موجود تھے۔ انہوں نے مخطوطات اور تاریخی ریکارڈ کے تحفظ کے لیے انتظامیہ کی اس کوشش کا خیرمقدم کیا۔






