خبرنامہ

برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدلنے کا فیصلہ، نئی بحث، نیا تنازع

مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں واقع برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرکے ’’واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘‘ رکھنے کی تجویز کو یونیورسٹی کی ورکنگ کونسل نے منظوری دے دی ہے۔ اگرچہ اس فیصلے کے نفاذ کے لیے ابھی ریاستی حکومت اور دیگر قانونی مراحل کی تکمیل ضروری ہے، تاہم اس پیش رفت نے علمی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس تبدیلی کے حق میں راجا بھوج کی تاریخی، ادبی اور ثقافتی خدمات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک میں تاریخی شخصیات، مقامات اور اداروں کے نام تبدیل کرنے کا سلسلہ محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع نظریاتی منصوبے کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جس کے ذریعے ہندوستان کی کثیر تہذیبی اور مشترکہ تاریخی شناخت کو نئے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بعض ناقدین کا یہ بھی مؤقف ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ایسے کئی فیصلے سامنے آئے ہیں جنہیں اقلیتی برادری، خصوصاً مسلمانوں کی تاریخی اور تہذیبی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔ ان حلقوں کی جانب سے بعض عدالتی فیصلوں، بالخصوص مذہبی مقامات سے متعلق مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ تاریخی دستاویزات اور روایتی شواہد کے باوجود بعض فیصلے ایک مخصوص بیانیے کو تقویت دیتے محسوس ہوتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ رجحان ملک کی تکثیری شناخت اور آئینی مساوات کے تصور کے لیے تشویش کا باعث ہے۔اجلاس کے دوران عربی و فارسی شعبے کی سربراہ ڈاکٹر طاہرہ عباسی نے بھی نام کی تبدیلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا برکت اللہ بھوپالی ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے عظیم رہنما اور انقلابی مفکر تھے، اس لیے ان کے نام سے منسوب ادارے کی شناخت برقرار رہنی چاہیے۔
واضح رہے کہ مولانا محمد برکت اللہ بھوپالی (1854ء تا 1927ء) تحریکِ آزادی ہند کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے بیرونِ ملک رہتے ہوئے برطانوی استعمار کے خلاف مؤثر جدوجہد کی اور عالمی سطح پر ہندوستان کی آزادی کی آواز بلند کی۔ ان کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے آزادی کی تحریک کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ برکت اللہ یونیورسٹی کے نام کی تبدیلی کا معاملہ صرف ایک تعلیمی ادارے کے نام تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہندوستان میں تاریخ، شناخت، وراثت اور قومی بیانیے سے متعلق جاری وسیع تر مباحث کا حصہ بن چکا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر