کانگریس کے ایس آئی آر فیصلے پر الیکشن کمیشن سے سخت سوالات
کانگریس نے ایس آئی آر فیصلے پر الیکشن کمیشن کی خامیوں اور ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے کے معاملے پر سوالات اٹھائے۔
کانگریس نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کی جانب سے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کو آئینی طور پر درست قرار دینے کے فیصلے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو شہریت کے معاملات میں آخری اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور سپریم کورٹ کے معروف وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عدالت کے فیصلے کے بعض حصے خود اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انتخابی عمل میں کئی خامیاں موجود تھیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیراگراف 97 سے 101 تک کا بغور مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار میں سنگین کمزوریاں تھیں، جنہیں بعد میں درست کیا گیا۔ سنگھوی کے مطابق اگر مختلف سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں اور این جی اوز عدالت کا رخ نہ کرتیں تو ان خامیوں کی نشاندہی ہی نہ ہو پاتی۔
کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ بہار میں تقریباً 65 لاکھ نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے تھے، لیکن بعد میں ان ناموں کو دوبارہ شائع کرنا پڑا اور حذف کیے جانے کی وجوہات بھی سامنے لانی پڑیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب عدالتی مداخلت اور اپوزیشن جماعتوں کے دباؤ کے باعث ممکن ہوا۔سنگھوی نے مزید کہا کہ مختلف ریاستوں میں عدالتِ عالیہ نے سیاسی جماعتوں کو مقدمات میں فریق بنایا، جبکہ بی ایل اے اور پیرا لیگل کارکنوں کو بھی شامل کیا گیا تاکہ لوگوں کو فارم بھرنے کے طریقے سمجھائے جا سکیں۔ ان کے مطابق اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مکمل تیاری کے بغیر اور عجلت میں اس پروگرام کو نافذ کیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اگر سول سوسائٹی، این جی اوز اور سیاسی جماعتیں اس معاملے میں سرگرم نہ ہوتیں تو انتخابی عمل میں موجود خامیاں برقرار رہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں ہونے والی اصلاحات بھی صرف اسی دباؤ اور قانونی کارروائی کا نتیجہ تھیں۔ تاہم انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کی ان خامیوں پر کوئی سخت تبصرہ نہیں کیا۔





