عبداللہ اعظم خان دو پاسپورٹ کیس میں عدالت سے بری ہوگئے
عبداللہ اعظم خان کو دو پاسپورٹ مقدمے میں بڑی راحت، سیشن کورٹ نے سات سال سزا کالعدم قرار دے کر بری کردیا۔
سماج وادی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم خان کے فرزند عبداللہ اعظم خان کو دو پاسپورٹ معاملے میں بڑی قانونی راحت حاصل ہوئی ہے۔ رامپور کی ایم پی-ایم ایل اے سیشن عدالت نے نچلی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سات سال کی سزا کو منسوخ کرتے ہوئے انہیں اس مقدمے سے بری کر دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد سماج وادی پارٹی کے کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور عدالت کے باہر کارکنوں نے جشن بھی منایا۔عبداللہ اعظم خان اتر پردیش کی سیاست میں ایک معروف نام سمجھے جاتے ہیں۔ وہ رامپور کی سوار اسمبلی نشست سے رکنِ اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے والد اعظم خان سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اور اتر پردیش حکومت میں وزیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
یہ مقدمہ سنہ 2019 میں درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عبداللہ اعظم خان نے مبینہ طور پر مختلف دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے الگ الگ اوقات میں دو پاسپورٹ حاصل کیے تھے اور ان کا بطور شناختی ثبوت استعمال بھی کیا گیا۔ اس معاملے کی شکایت بی جے پی رہنما آکاش سکسینہ کی جانب سے رامپور کے سول لائن تھانے میں درج کرائی گئی تھی۔بعد ازاں اس کیس کی سماعت ٹرائل کورٹ میں ہوئی جہاں پانچ دسمبر 2025 کو عدالت نے عبداللہ اعظم خان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف عبداللہ اعظم خان کی جانب سے سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ اپیل پر سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے جمعہ کے روز اپنا فیصلہ سناتے ہوئے نچلی عدالت کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا اور سزا ختم کر دی۔
عبداللہ اعظم کے وکیل ناصر سلطان کے مطابق سیشن کورٹ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو درست نہیں مانا، جس کے بعد اپیل منظور کر لی گئی۔ تاہم اس مقدمے میں بریت کے باوجود عبداللہ اعظم خان فوری طور پر جیل سے باہر نہیں آ سکیں گے کیونکہ دیگر مقدمات میں وہ پہلے سے سزا کا سامنا کر رہے ہیں





