رابڑی دیوی کی سیکیورٹی واپسی، 10 سرکولر روڈ تنازع شدت اختیار
رابڑی دیوی نے سیکیورٹی واپس کی، حکومت نے 10 سرکولر روڈ خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا، سیاسی بحث جاری۔
بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے پٹنہ کے 10 سرکولر روڈ پر واقع سرکاری رہائش گاہ کے باہر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کو واپس بھیج دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ریاستی حکومت کی جانب سے ان کی سیکیورٹی اور رہائش سے متعلق انتظامات میں تبدیلی کی گئی۔راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ترجمان ارون کمار نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی نے جمہوری اقدار کے احترام اور سادگی کے پیغام کے طور پر اپنی سیکیورٹی واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک اصولی قدم ہے جس کا مقصد عوام میں ایک خاص پیغام دینا ہے۔
حالیہ دنوں میں بہار حکومت نے لالو پرساد یادو کے خاندان کو فراہم کی گئی سیکیورٹی کا ازسرنو جائزہ لیا تھا۔ اس جائزے کے بعد لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کی زیڈ پلس سیکیورٹی واپس لے لی گئی، جو کہ اعلیٰ سطح کی حفاظتی سہولت سمجھی جاتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی ماحول میں بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔اسی دوران حکومت کی جانب سے رابڑی دیوی کو 10 سرکولر روڈ والا سرکاری مکان خالی کرنے کا نوٹس بھی جاری کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ چونکہ رابڑی دیوی اپوزیشن لیڈر کے طور پر پہلے ہی ہارڈنگ روڈ پر ایک سرکاری رہائش حاصل کر چکی تھیں، اس لیے انہیں وہی مکان استعمال کرنا چاہیے تھا، لیکن وہ وہاں منتقل نہیں ہوئیں۔
دوسری جانب حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ 10 سرکولر روڈ والا بنگلہ اب ریاست کے وزیر برائے حیوانات و ماہی پروری نند کشور رام کو الاٹ کیا جائے گا۔ یہ بنگلہ طویل عرصے سے لالو پرساد یادو کے خاندان سے منسلک رہا ہے اور سیاسی طور پر بھی اس کی خاص اہمیت سمجھی جاتی ہے۔ریاستی حکومت نے رابڑی دیوی کو اس سرکاری رہائش گاہ کو خالی کرنے کے لیے 15 دن کی مہلت دی ہے، اور ہدایت دی ہے کہ وہ جون کے وسط تک یہ مکان چھوڑ دیں۔ اس فیصلے کے بعد ریاست میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آ رہے ہیں۔





