شناخت

مبارک یادیں

محمد شہباز عالم مصباحی
صدر شعبۂ عربی، سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال

اپنی زندگی میں سب سے پہلا با ضابطہ مقالہ میں نے “علامہ اقبال کی نعتیہ شاعری: ایک علمی جائزہ” کے عنوان سے قلم بند کیا تھا جو در اصل جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں تحریری و تقریری مسابقتی پروگرام “یومِ مفتی اعظم” کے لئے لکھا تھا جسے جماعت سابعہ (2003ء) کے طلبہ نے منعقد کیا تھا ۔ اسی مقالے کے لئے درکار مواد حاصل کرنے کے لئے کئی بار دار المصنفین لائبریری، اعظم گڑھ بھی جانا رہا اور وہ بھی اشرفیہ سے سائیکل کے ذریعے، صبح کی ایک دو گھنٹی کے بعد میں اور میرے رفیق درس مولانا شبیر احمد جموئی دار المصنفین سائیکل سے آ جاتے تھے اور پھر دن بھر لائبریری میں کتابوں کی ورق گردانی کے بعد چار بجے تک لوٹ آتے تھے، دار المصنفین ہی سے لائبریری کی سیر کا شوق مجھ میں پروان چڑھا، اشرفیہ میں اس وقت صرف اشرفی دار المطالعہ نامی پرانی لائبریری تھی جس میں قدیم کتابیں تو تھیں، لیکن جدید لٹریچر نہ کے برابر تھا، اس لئے یہاں سے بہت کم ہی استفادہ کیا، امام احمد رضا لائبریری ان دنوں تعمیری مرحلے سے گزر رہی تھی، قصبہ مبارک پور میں ناولوں پر مشتمل ایک لائبریری تھی جہاں سے رومانی و تاریخی ناولز لاکر چوری چھپے پڑھنے کی مجھے عادت تھی اور بھر پور تھی، لیکن علمی و ادبی کتب خوانی کی عادت دار المصنفین سے پڑی، خیر مواد کی حصول یابی کے بعد ایک طویل مقالہ علامہ اقبال کی نعتیہ شاعری پر سپرد قرطاس کیا اور نظر ثانی کے لئے معروف ادیب حضرت مولانا عبد المبین نعمانی دام ظلہ کے حوالے کیا، حضرت ان دنوں المجمع الاسلامی، ملت نگر، مبارک پور میں طلبۂ اشرفیہ کی تحریری و قلمی تربیت کرتے تھے، عصر کی نماز کے بعد وہ طلبہ کے درمیان بیٹھے تھے، میں نے مقالہ پیش کیا تو اسی وقت پورا مقالہ پڑھ کر دو ایک جگہ خط اصلاح پھیر کر مجھے یہ کہتے ہوئے واپس کیا کہ مقالہ بہت اچھا ہے اور مستحق انعام ہے۔ حضرت کے ان کلمات سے مجھے قبل از وقت یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ میرے مقالے کو مسابقے میں انعام سے ضرور نوازا جائے گا اور ہوا بھی یہی کہ یہ مقالہ انعام دوم کا مستحق قرار پایا، غالباً انعام اول مولانا شہروز مصباحی کے مقالے کو ملا تھا، لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ میں نے انگریزی زبان میں تقریری مسابقے میں بھی حصہ لیا تھا جس میں مجھے اول پوزیشن حاصل ہوئی تھی ۔ اس طرح مجھے اس مسابقے میں دو امتیازی انعام ملے، ان انعامات کے ملنے کے بعد ہی ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور کے چیف ایڈیٹر، جامعہ اشرفیہ کے استاذ، فخر صحافت، معروف مصنف و ادیب مولانا مبارک حسین مصباحی مرحوم (وفات: 05 جون، 2026ء، بروز جمعہ) سے میرے تعلقات بڑھے اور حضرت کی مجھے توجہ حاصل ہوئی، حضرت مولانا مبارک صاحب ایک نشریاتی ادارہ بھی “المجمع المصباحی” کے نام سے چلاتے تھے جس کے تحت وہ ہند و پاک کے معروف سنی مصنفین کی بیش قیمت کتابیں شائع کرتے تھے، اس ادارہ کے ایک فعال رکن حضرت مولانا زاہد علی سلامی صاحب استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور تھے، ان دونوں نے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ کی ہند و پاک شہرت گیر کتاب” بہار شریعت” کی جدید اشاعت کی منصوبہ بندی کی اور دونوں نے اپنی باہمی مشاورت سے حصہ اول و دوم کی ترقیم و پیرا بندی کا کام مجھے سپرد کیا اور میں نے بڑی دل چسپی اور باریک بینی سے یہ کام کرکے واپس کیا، مجھے نہیں معلوم کہ اس کی جدید اشاعت ہوئی بھی یا نہیں۔

اشرفیہ میں طالب علمی کے دوران حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی سے اس حد تک ہی میرے تعلقات رہے، اشرفیہ سے فراغت کے بعد جب میں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بی اے (گریجویشن) میں داخلہ لیا تو مولانا مبارک صاحب ان دنوں ایک بار دار القلم دہلی تشریف لائے تھے اور تمام مصباحی برادران کی “تنظیم ابنائے اشرفیہ” کے فروغ کے لئے ایک میٹنگ بلائی تھی جس میں میں بھی حاضر ہوا تھا ۔ حضرت اس تنظیم کے جنرل سیکرٹری تھے، لیکن ایک عظیم ادارے کے فارغین کی تنظیم ہونے کے باوجود چونکہ یہ تنظیم کوئی خاص فعال نہ تھی تو اس حوالے سے میرے دل میں بہت زیادہ بھڑاس تھی جسے میں نے اس دن مولانا مبارک صاحب کے سامنے ادب کے دائرے میں کھل کر نکالی تھی، میرے بعض ساتھیوں کو میرا ایسا کرنا ناگوار بھی گزرا تھا، لیکن میرا ماننا تھا کہ دل کی بات نوک زبان پر بھی آنی چاہیے اور اگر ادب کے دائرے میں ہو تو یہ بے باکی ضرور ہے، لیکن گستاخی نہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ میرے بعض ساتھیوں کے بر عکس مولانا مبارک صاحب نے مجھ نوخیز کی باتیں بڑے چاؤ اور توجہ سے سنیں اور میرے جذبات کی قدر کی ۔ اس دن سے میری نظر میں ان کا قد اور بلند ہوگیا ۔

ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور کے چیف ایڈیٹر ہونے کے ناطے انہوں نے جنگ 1857ء کے ڈیڑھ سو سال پورے ہونے پر ایک ضخیم شمارہ “1857ء نمبر” نکالنے کا اعلان جاری کیا، مجھے خبر لگی تو میں نے اس جنگ کے ایک نادر پہلو “انقلاب 1857ء کا جہادی پہلو: صحیح یا غلط؟” کے عنوان کے تحت ایک طویل تاریخی و فقہی مقالہ قلم بند کیا اور عرس حافظ ملت کے موقع پر جس میں میں نے بھی شرکت کی تھی، اپنے ہاتھ سے حضرت کے حوالے کیا، حضرت بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ کا یہ مقالہ ضرور اشاعت پذیر ہوگا، کیوں کہ آپ نے ایک ایسے گوشے پر لکھا ہے جو میرے ذہن میں بھی نہیں تھا اور جب یہ نمبر منظر عام پر آیا تو حضرت نے میرے مقالے کو نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کیا ۔

درج بالا تفصیل سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ نو آموز قلم کاروں کی کس قدر حوصلہ افزائی کرتے تھے اور نوخیز جذبات کی قدر دانی بھی، صحیح بات یہی ہے کہ وہ جدید نسل میں قلمی و تحریری، علمی و فکری اور تحریکی و تنظیمی انقلاب کے داعی تھے اور اس کے لئے بھر پور کوشاں بھی رہتے تھے اور حتی الامکان جدید قلم کاروں کے بال و پر سنوار کر انہیں پرواز کرنا سکھاتے تھے، واقعی میرے قلمی تربیت کنندگان میں ایک اہم نام مولانا مبارک صاحب کا بھی ہے ۔

مغربی بنگال میں ملازمت کے بعد بھی میں نے گاہے بہ گاہے اپنے بعض مضامین بذریعۂ واٹس ایپ ماہ نامہ اشرفیہ میں اشاعت کے لیے انہیں بھیجے تھے اور جن کی حصول یابی پر انہوں نے مسیج بھی کیا تھا، لیکن کثرت مصروفیات کی وجہ سے بعد میں میں خود پتہ نہیں کر سکا کہ وہ مضامین شائع ہوئے بھی یا نہیں، خیر اسی بہانے ان سے باتیں ہو جاتی تھیں اور تعلقات بحال تھے.

رہ گئی بات ان کی لکھی بیش بہا کتابوں کے مطالعے کی تو ان کی کم و بیش تمام کتابیں میں نے پڑھی ہیں، لیکن سب سے زیادہ جس کتاب نے مجھے ان کا گرویدہ بنایا وہ کتاب تھی جسے انہوں نے رئیس القلم علامہ ارشد القادری کی وفات کے بعد انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تعزیت کے طور پر لکھی تھی، کیا ہی دل سوز اور سحر طراز اسلوب ہے اس کتاب میں جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ رب کریم حضرت کی مغفرت تامہ فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عنایت کرے ۔ ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد!

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

شناخت

مبلغ اسلام حضرت علامہ محمد عبد المبین نعمانی مصباحی— حیات وخدمات

از:محمد ضیاء نعمانی مصباحی متعلم: جامعہ اشرفیہ مبارک پور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ معاشرے کی کامیابی اور قوم
شناخت

فضا ابن فیضی شخصیت اور شاعری

17 جنوری آج مشہور معروف شاعر فضا ابن فیضی کا یوم وفات ہے فیض الحسن فضا ابن فیضی یکم جولائی