مودی کے تاریخی ریکارڈ پر کانگریس کا بڑا سیاسی حملہ
مودی نے طویل ترین مدت تک منتخب وزیر اعظم رہنے کا ریکارڈ بنایا، کانگریس نے جمہوری اداروں اور حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے منتخب وزیر اعظم کی حیثیت سے طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔

کانگریس کی تنقید
کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وزیر اعظم مودی نے اگرچہ ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے، تاہم ان کے مطابق ملک میں جمہوری اداروں کی حالت تشویش ناک ہو گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں آئینی ادارے کمزور ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن کی خود مختاری متاثر ہوئی ہے اور پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کے نظام پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔

نہرو دور کا حوالہ
جئے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں پنڈت جواہر لعل نہرو کے دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد ابتدائی برسوں میں ملک کی سیاسی اور انتظامی بنیادیں مضبوط کی گئیں۔ ان کے مطابق ریاستوں کے انضمام، زمینداری نظام کے خاتمے، درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لیے ریزرویشن کے نفاذ اور سائنسی و تکنیکی ڈھانچے کی تعمیر جیسے اقدامات نے جدید بھارت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

تعلیمی اداروں پر تنقید
کانگریس رہنما نے حالیہ نیٹ۔سی بی ایس ای تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے دور میں تعلیمی اداروں میں سائنسی سوچ اور آزادانہ تحقیق کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔
سیاسی موازنہ
جئے رام رمیش نے نہرو اور مودی کے تین تین ادوار حکومت کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہرو نے 1952، 1957 اور 1962 کے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی، جب کہ 2024 کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے طور پر اکثریت حاصل نہ کر سکی اور حکومت سازی کے لیے اتحادی جماعتوں پر انحصار کرنا پڑا۔






