امریکہ ایران کشیدگی میں اضافہ، مذاکرات پر سوالات اور الزامات
امریکہ ایران کشیدگی میں اضافہ، حملوں، الزامات اور جوابی کارروائیوں کے بعد مذاکرات کے مستقبل پر سوالات کھڑے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جب جنوبی ایران میں امریکی کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کے بیانات نے صورت حا ل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے بعد یہ فیصلہ دوبارہ زیر غور آئے گا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں یا نہیں۔ وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق جب کسی تنازع میں طاقت کا استعمال بڑھ جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سفارتی کوششوں پر پڑتا ہے، اور ایسے حالات میں مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے کم از کم مناسب ماحول اور گنجائش کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران مذاکرات کے دوران جان بوجھ کر تاخیر سے کام لیتا رہا ہے اور اب اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں شدید طور پر کمزور ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی بحری اور فضائی طاقت کے کئی حصے تقریباً غیر مؤثر ہو چکے ہیں اور ملک کی عسکری صورت حال کمزور ہو گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران صرف بیانات دیتا ہے لیکن عملی طور پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھا رہا، اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کی طاقت کمزور پڑ چکی ہے۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب حالیہ دنوں میں جنوبی ایران میں امریکی حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
اس پورے معاملے کی ایک اور اہم کڑی اس وقت سامنے آئی جب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر اومان کے ساحل کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس ہیلی کاپٹر میں موجود دو افراد کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا۔ ابتدا میں امریکی صدر نے اس واقعے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا، تاہم ایران نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ اس نے 9 جون کو ایران کے خلاف دفاعی کارروائی مکمل کی، جسے خود دفاع کے طور پر بیان کیا گیا۔
اس کے بعد ایران کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان اقدامات اور بیانات کے تبادلے نے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے اور صورتحال کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔





