جنتر منتر پر نوجوانوں کا ہجوم، سی جے پی کی للکار
جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج میں نوجوانوں کی شرکت، تعلیمی مسائل، بے روزگاری اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ۔
نئی دہلی: سوشل میڈیا سے جنم لینے والی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) کی اپیل پر آج جنتر منتر میں احتجاج جاری ہے، جہاں مختلف علاقوں سے آنے والے نوجوان اور طلبہ اپنے مطالبات کے حق میں جمع ہیں۔ مظاہرین تعلیمی مسائل، امتحانی بے ضابطگیوں، بے روزگاری اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے ہفتے کی صبح دہلی پہنچے اور احتجاج میں شرکت کے لیے جنتر منتر کا رخ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی یہ مہم اب عوامی سطح پر ایک تحریک کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی سیاسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ نوجوانوں کے احساسِ محرومی اور ناراضی کا اظہار ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ کئی برسوں سے عوامی مسائل کے بجائے مذہبی اور فرقہ وارانہ مباحث کو سیاسی ترجیح دی گئی، جبکہ روزگار اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے۔

احتجاج کے مقام پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مظاہرین کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شرکاء مختلف نعروں اور پلے کارڈز کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سی جے پی کی جانب سے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی دہرایا جا رہا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ تعلیمی شعبے میں پائے جانے والے مسائل اور امتحانی نظام سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔اس دوران مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات نے بھی اس احتجاج پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اگر یہ عوامی حمایت برقرار رہی تو یہ مہم محض سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے گی، جبکہ بعض حلقے اسے نوجوان نسل کی بے چینی اور موجودہ حالات پر عدم اطمینان کا مظہر قرار دے رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آج جنتر منتر میں جمع ہونے والے افراد کی تعداد اور احتجاج کا تسلسل اس مہم کے مستقبل کے بارے میں اہم اشارے فراہم کرے گا۔ فی الحال سب کی نظریں جنتر منتر پر مرکوز ہیں، جہاں نوجوانوں کا یہ احتجاج ملکی سیاست اور عوامی مباحث میں ایک نئی بحث کو جنم دیتا دکھائی دے رہا ہے۔






