منی پور میں مسلح حملہ، تین افراد ہلاک، متعدد مکانات نذرِ آتش
منی پور کے کانگپوکپی ضلع میں مسلح حملے میں تین افراد ہلاک، گھروں کو آگ لگائی گئی، پولیس نے تفتیش شروع کردی۔
منی پور کے ضلع کانگپوکپی میں پیش آنے والے ایک مسلح حملے میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ چند مکانات کو بھی آگ لگا دی گئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔مقامی پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی علی الصبح پیش آیا، جب نامعلوم مسلح افراد نے لوئیبول کھولین گاؤں کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے گاؤں میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ فائرنگ کے بعد بعض گھروں کو بھی آگ لگا دی گئی، جس سے املاک کو نقصان پہنچا۔
پولیس نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت لیٹکھونگم ہاؤکیپ، ان کی اہلیہ ٹِن میری ہاؤکیپ اور جانگمن لال ہاؤکیپ کے طور پر کی ہے۔ تینوں کا تعلق اسی گاؤں سے بتایا جاتا ہے جہاں حملہ کیا گیا۔واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب کوکی زو برادری کی نمائندہ تنظیم کوکی اِنپی منی پور نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے پیچھے نگا شدت پسند تنظیم این ایس سی این ،آئی ایم اور اس سے وابستہ ایک گروہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ نہتے دیہاتیوں کو نشانہ بنانا اور ان کے گھروں کو تباہ کرنا انسانیت اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف سنگین اقدام ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
واضح رہے کہ منی پور گزشتہ چند برسوں سے نسلی کشیدگی اور پرتشدد واقعات کی لپیٹ میں ہے۔ ابتدا میں تنازعہ میتیئی اور کوکی برادریوں کے درمیان شروع ہوا تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں بعض علاقوں میں کوکی اور نگا گروہوں کے درمیان بھی تناؤ اور جھڑپوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ تازہ حملے نے ایک بار پھر ریاست میں امن و امان کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔





