منی پورمیں ایک بارپھر تشدد، مسلح حملے میں دو افراد ہلاک، حالات کشیدہ
منی پور کے کامجونگ ضلع میں مسلح حملے سے دو افراد ہلاک، متعدد زخمی، ناگا اور کوکی برادریوں میں کشیدگی بڑھی۔
امپھال: منی پور کے پہاڑی ضلع کامجونگ میں جمعرات کی صبح پیش آنے والے ایک تازہ مسلح حملے نے ریاست میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق چساد پولیس تھانے کے حدود میں واقع کُلٹُپ گاؤں میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ اور آتش زنی کے نتیجے میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے علی الصبح گاؤں کو نشانہ بنایا اور متعدد گھروں پر فائرنگ کے ساتھ ساتھ کئی مکانات کو آگ لگا دی۔ حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل لاپتا ہونے والے چھ ناگا افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ اس پیش رفت کے بعد پہاڑی علاقوں میں عدم تحفظ اور نسلی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مقامی سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات نے مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد کو مزید کمزور کر دیا ہے۔حملے میں جان گنوانے والوں کی شناخت لیٹمن لُن ہاؤکپ اور لُن منتھنگ ہاؤکپ کے طور پر کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے بھی حالیہ پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور قصورواروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
منی پور میں مئی 2023 سے میتیئی اور کوکی برادریوں کے درمیان نسلی تصادم جاری ہے، تاہم رواں سال فروری سے کوکی اور تانگکھُل ناگا گروہوں کے درمیان بھی جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کے نتیجے میں اب تک بیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ مذہبی رہنماؤں کے قتل کے بعد حالات مزید خراب ہوئے اور متعدد افراد کو اغوا بھی کیا گیا تھا، جن میں سے بعض کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔
ادھر ناگا برادری کی نمائندہ تنظیم یونائیٹڈ ناگا کونسل نے اپنے چھ افراد کی لاشیں ملنے کے بعد 24 گھنٹے کے بند کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث ناگا اکثریتی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اغوا اور قتل کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور امن و امان کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اسی دوران سیناپتی ضلع میں ایک سیاسی جماعت کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے، جس سے ریاست کی مجموعی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔





