امریکی معیشت کی رفتار کمزور، عالمی حالات نے بڑھایا دباؤ
امریکہ کی دوسری سہ ماہی میں معاشی ترقی 1.5 فیصد رہی، حکومتی اخراجات، سرمایہ کاری اور برآمدات میں کمی، صارفین کے اخراجات میں اضافہ۔
امریکہ کی معیشت نے رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں توقعات سے کم رفتار سے ترقی کی ہے، جس سے یہ اشارہ ملا ہے کہ عالمی اقتصادی دباؤ اور اندرونی مالیاتی چیلنجز اب دنیا کی سب سے بڑی معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ امریکی محکمۂ تجارت کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل سے جون 2026 کے دوران امریکی معیشت کی سالانہ شرحِ نمو 1.5 فیصد ریکارڈ کی گئی، جب کہ پہلی سہ ماہی میں یہی شرح 2.1 فیصد تھی۔ اس کمی نے ماہرینِ اقتصادیات کی پیش گوئیوں کو بھی غلط ثابت کیا، کیونکہ بیشتر تجزیہ کار اس سے بہتر کارکردگی کی توقع کر رہے تھے۔ماہرین کے مطابق معاشی رفتار میں کمی کی ایک بڑی وجہ حکومتی اخراجات میں کمی، نجی سرمایہ کاری کی سست روی اور برآمدات میں گراوٹ ہے۔ ان عوامل نے مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کیا اور شرحِ نمو کو نیچے لے آئے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر جاری غیر یقینی صو رتحال، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور اسرائیل۔ایران تنازع کے اقتصادی اثرات نے بھی امریکی کاروباری ماحول پر دباؤ بڑھایا ہے۔
اسی دوران امریکی کمپنیاں درآمدی محصولات (ٹیرف) سے متعلق پالیسیوں کے باعث اضافی مالی بوجھ کا سامنا کر رہی ہیں۔ کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ خام مال اور دیگر ضروری اشیا کی لاگت میں اضافہ ان کی پیداوار اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر ڈال رہا ہے، جس کے نتیجے میں اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار پہلے کے مقابلے میں سست ہوئی ہے۔اگرچہ مجموعی معاشی تصویر توقع سے کمزور رہی، تاہم گھریلو صارفین کے اخراجات میں نمایاں اضافہ معیشت کے لیے ایک مثبت پہلو ثابت ہوا۔ امریکی معیشت میں صارفین کے اخراجات کا حصہ دو تہائی سے بھی زیادہ سمجھا جاتا ہے، اور دوسری سہ ماہی کے دوران یہ اخراجات 3.2 فیصد کی رفتار سے بڑھے۔ اس سے قبل سال کے آغاز میں یہی شرح صرف 0.5 فیصد تک محدود رہ گئی تھی، اس لیے تازہ اضافہ معیشت کے لیے کچھ حد تک سہارا بن کر سامنے آیا۔
ادھر امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو، نے مسلسل پانچویں اجلاس میں شرحِ سود کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ بینک کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی حالات کا مزید جائزہ لینے کے بعد ہی آئندہ کوئی بڑا فیصلہ کیا جائے گا۔ فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین کیون وارش نے اس موقع پر کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کوئی فوری یا جادوئی حل موجود نہیں، بلکہ قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے محتاط اور مسلسل معاشی پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے۔اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں امریکی معیشت کی کارکردگی کا انحصار صارفین کے اعتماد، سرمایہ کاری کی بحالی، عالمی تجارتی حالات اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ مالیاتی حکمتِ عملی پر ہوگا۔ اگر عالمی کشیدگی میں کمی آتی ہے اور سرمایہ کاری دوبارہ بڑھتی ہے تو امریکی معیشت آنے والی سہ ماہیوں میں بہتر رفتار حاصل کر سکتی ہے، تاہم موجودہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ترقی کی رفتار فی الحال دباؤ کا شکار ہے۔






