طلبہ احتجاج پر پرینکا کا سخت مؤقف، حکومت سے جواب طلب
پرینکا گاندھی نے لوک سبھا میں نوجوانوں پر کارروائی، تعلیمی نظام کی خامیوں اور حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔
لوک سبھا میں منگل کے روز ’پبلک ایگزامینیشن (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026‘ پر بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے حکومت کو نوجوانوں کے مسائل اور احتجاج سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نوجوانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور طلبہ و نوجوانوں کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جا رہی۔بحث کے دوران پرینکا گاندھی نے حکومت سے سوال کیا کہ طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کے دوران سخت کارروائی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے پوچھا کہ مظاہرین پر آنسو گیس، لاٹھی چارج اور دیگر سخت اقدامات کیوں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے نوجوان ملک کے شہری ہیں، اس لیے ان کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں ہونا چاہیے جس سے ان کے حقوق متاثر ہوں۔کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ نوجوانوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے احکامات کس کی جانب سے دیے گئے، اس کا جواب حکومت کو دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال صرف ان کی جماعت کا نہیں بلکہ ملک کے عوام کا بھی ہے، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات پر وضاحت پیش کرے۔
پرینکا گاندھی نے ملک کے تعلیمی نظام میں موجود خامیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج بڑی تعداد میں طلبہ تعلیمی دباؤ، مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال اور مقابلہ جاتی امتحانات کے مسائل سے پریشان ہیں۔ ان کے مطابق کئی خاندان بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، قرض لینے پر مجبور ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں کامیابی اور روزگار کے حوالے سے یقین دہانی حاصل نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو بہتر مواقع مل سکیں اور انہیں غیر ضروری دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو طلبہ کے مسائل، امتحانات میں شفافیت اور نوجوانوں کے مستقبل کے معاملات پر مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسی بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا تھا کہ ’پبلک ایگزامینیشن (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026‘ ملک کے امتحانی نظام میں شفافیت اور اصلاحات کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس قانون کے ذریعے امتحانات میں بے ضابطگیوں اور غلط طریقوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس بل پر بحث کے دوران نوجوانوں کے مسائل، امتحانی نظام کی خامیاں اور طلبہ کے حقوق جیسے معاملات نمایاں طور پر زیرِ بحث رہے۔






