خبرنامہ

بھوپال میں کسانوں کا بڑا مارچ، وزیراعلیٰ ہاؤس گھیراؤ کا اعلان

مدھیہ پردیش میں مونگ کی فصل کی مکمل سرکاری خرید اور کسانوں کو کھاد کی منصفانہ و بروقت فراہمی کے مطالبات نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے۔ انہی مطالبات کے حق میں ریاست کے مختلف اضلاع سے تقریباً دو ہزار کسان منگل کے روز دارالحکومت بھوپال پہنچ گئے، جہاں انہوں نے بڑے احتجاج کی تیاری شروع کر دی۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی، وہ احتجاج ختم کرکے واپس اپنے گھروں کو نہیں جائیں گے۔یہ احتجاج ریاست کی 19 مختلف کسان تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم کے تحت کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کسان رہنماؤں کے مطابق انہوں نے طویل دھرنے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ساتھ تقریباً ایک ہفتے کا راشن، پینے کا پانی اور دیگر ضروری سامان بھی رکھا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مسلسل احتجاج جاری رکھا جا سکے۔
کسانوں کی بڑی تعداد میں آمد کے پیش نظر بھوپال میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے مختلف داخلی راستوں اور اہم مقامات پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے جبکہ متعدد جگہوں پر بیریکیڈ لگا کر راستوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ بعض مقامات پر جب مظاہرین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس اور کسانوں کے درمیان دھکم پیل کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ چند مقامات پر مظاہرین نے بیریکیڈ ہٹانے یا توڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کو مزید نفری تعینات کرنا پڑی۔احتجاجی تنظیموں کے رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ تحریک کو کمزور کرنے کے لیے مختلف کسان رہنماؤں کو حراست میں لے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے احتجاج ختم نہیں ہوگا بلکہ کسانوں میں بے چینی مزید بڑھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک حکومت مونگ کی سو فیصد خرید، کھاد کی مؤثر تقسیم اور دیگر زرعی مسائل کے حل کے حوالے سے عملی اقدامات نہیں کرتی، تب تک احتجاج جاری رہے گا۔
بھارتیہ کسان یونین کے ریاستی نائب صدر سنتوش پٹوارے نے بھی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت مونگ کی پوری فصل خریدنے میں ناکام رہی ہے، جس سے ہزاروں کسان مالی نقصان برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملے پر ریاستی وزیرِ زراعت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچی، جس کے بعد کسانوں میں ناراضی مزید بڑھ گئی ہے۔دوسری جانب ہزاروں کسانوں، ٹریکٹروں اور ٹرالیوں کی بھوپال آمد کے باعث شہر کی ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی۔ کئی اہم شاہراہوں پر کئی کلومیٹر طویل گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، جس سے عام شہریوں کو بھی شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ ٹریفک کی روانی بحال رکھنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، جبکہ کسان تنظیموں نے عندیہ دیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر