بانکی پور میں کم ووٹنگ، جیت کے دعووں نے مقابلہ دلچسپ بنا دیا
بانکی پور ضمنی انتخاب میں صرف 34.30 فیصد ووٹنگ ہوئی، بی جے پی، آر جے ڈی اور پرشانت کشور نے کامیابی کے دعوے کیے، نتائج 3 اگست کو آئیں گے۔
پٹنہ ۔ بانکی پور اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں ووٹنگ کی شرح توقع سے خاصی کم رہی۔ الیکشن حکام کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 34.30 فیصد ووٹ ڈالے گئے، جب کہ صبح سے ہی پولنگ کی رفتار سست دیکھی گئی۔ کم ٹرن آؤٹ کے باوجود مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کیے ہیں، جس کے باعث اس نشست کے نتائج پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔بانکی پور اسمبلی نشست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی صدر نتن نوین کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں یہاں ضمنی انتخاب کرایا گیا۔ یہ نشست اس بار اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی کیونکہ جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے پہلی مرتبہ اسی حلقے سے انتخابی میدان میں قدم رکھا، جس سے مقابلہ مزید دلچسپ بن گیا۔
اس حلقے میں بی جے پی کی جانب سے نیرج سنہا، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی امیدوار ریکھا گپتا اور جن سوراج پارٹی کے سربراہ پرشانت کشور کے درمیان اصل مقابلہ تصور کیا جا رہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران تینوں جماعتوں نے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا، تاہم ووٹنگ کے دن شہری علاقوں میں رائے دہندگان کی محدود شرکت نے سب کو حیران کر دیا۔بانکی پور کو روایتی طور پر کم ووٹنگ والا حلقہ سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ یہ پٹنہ کے شہری علاقے پر مشتمل ہے، اس لیے یہاں ماضی میں بھی پولنگ کا تناسب نسبتاً کم رہا ہے۔ گزشتہ بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں بھی اس حلقے میں تقریباً 42 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ اس مرتبہ یہ شرح اس سے بھی کم رہی۔
بی جے پی کے ترجمان اجے آلوک نے کم ووٹنگ کی ایک وجہ بارش کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولنگ کے دوران موسم نے بھی اثر ڈالا، تاہم ان کے مطابق ووٹنگ کا تناسب کم یا زیادہ ہونے سے انتخابی نتیجے پر لازمی طور پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کا امیدوار کامیابی حاصل کرے گا۔دوسری جانب آر جے ڈی کے سینئر رہنما تیجسوی یادو نے بھی اپنی جماعت کی امیدوار ریکھا گپتا کی کامیابی کا یقین ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور نتیجہ ان کی جماعت کے حق میں آئے گا۔
ادھر جن سوراج پارٹی کے سربراہ پرشانت کشور نے بھی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بانکی پور میں ووٹنگ کی شرح فیصلہ کن عنصر نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق کم پولنگ کے باوجود بی جے پی کو اس نشست پر شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اور عوام نئے متبادل کو موقع دیں گے۔بانکی پور کے علاوہ مدھیہ پردیش کی دتیا اور گجرات کی مانجل پور اسمبلی نشستوں پر بھی اسی روز ضمنی انتخابات منعقد ہوئے۔ ان تمام حلقوں کے ووٹوں کی گنتی 3 اگست کو ہوگی، جس کے بعد نتائج کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان ضمنی انتخابات کے نتائج متعلقہ ریاستوں کی آئندہ سیاسی حکمت عملی اور عوامی رجحانات کا اہم اشارہ ثابت ہو سکتے ہیں۔






