خبرنامہ

دہلی میں نیٹ مظاہرین کے لیے خوشخبری، مقدمات ختم کرنے کا اعلان

دہلی حکومت نے نیٹ (یو جی) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ احتجاج میں شریک افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ حکومت کے مطابق یہ فیصلہ قومی دارالحکومت میں پیدا ہونے والی صورتحال، عدالتی ہدایات اور قانونی جائزے کے بعد کیا گیا ہے، تاکہ ایسے افراد کو غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے بچایا جا سکے جنہوں نے پرامن احتجاج میں حصہ لیا تھا۔سرکاری معلومات کے مطابق 29 جولائی 2026 کی شام چھ بجے تک دہلی پولیس کی جانب سے نیٹ (یو جی) امتحان کے خلاف ہونے والے مختلف احتجاجی پروگراموں سے متعلق مجموعی طور پر 13 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان مقدمات کا تعلق ان مظاہروں سے تھا جن میں طلبہ، نوجوانوں اور مختلف تنظیموں کے کارکنوں نے امتحانی نظام میں مبینہ بے قاعدگیوں اور شفافیت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔
دہلی حکومت کی جانب سے جاری پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی دارالحکومت کے کسی بھی پولیس ادارے کی طرف سے ان مظاہروں میں شریک افراد کے خلاف مزید کوئی منفی یا سخت قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ایسے افراد کو ریلیف فراہم کرنا ہے جنہوں نے اپنے جمہوری حق کے تحت احتجاج کیا اور جن کے خلاف صرف احتجاج میں شرکت کی بنیاد پر مقدمات درج کیے گئے۔لیکن حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ سہولت ہر شخص کے لیے نہیں ہوگی۔ جن افراد کا ماضی میں مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے یا جو سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق اس رعایت کے دائرے میں نہیں آتے، ان پر یہ فیصلہ لاگو نہیں ہوگا۔ حکام کے مطابق عدالت عظمیٰ کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور صرف انہی افراد کو ریلیف دیا جائے گا جو مقررہ قانونی معیار پر پورا اترتے ہوں۔
پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگر ان مقدمات کے سلسلے میں کسی شخص کو پہلے گرفتار کیا جا چکا ہے یا تحویل میں لیا گیا تھا، تو ان تمام معاملات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ گرفتاریوں کا قانونی معائنہ جلد مکمل کیا جائے اور جہاں مناسب ہو وہاں زیر حراست افراد کی رہائی کا عمل فوری طور پر انجام دیا جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس عمل کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد ریلیف مل سکے۔حکومت نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ ان احتجاجی واقعات کے حوالے سے مزید کوئی نئی قانونی کارروائی شروع کرنے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق ان مقدمات کو مؤثر طور پر نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا اور صرف احتجاج میں شرکت کی بنیاد پر آئندہ کسی فرد کے خلاف نئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد انتظامی اور قانونی عمل میں وضاحت پیدا کرنا اور غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کرنا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ قومی دارالحکومت دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر (نائب راجیہ پال) کی منظوری کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ متعلقہ تمام اداروں کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ فیصلے پر بروقت اور مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔یاد رہے کہ نیٹ (یو جی) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ اور سماجی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران امتحانی نظام میں شفافیت، جواب دہی اور اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ دہلی بھی ان اہم مراکز میں شامل تھا جہاں بڑی تعداد میں طلبہ نے احتجاج کیا، جس کے بعد متعدد مقامات پر پولیس نے مقدمات درج کیے تھے۔
تازہ حکومتی فیصلے کو قانونی اور سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان طلبہ اور نوجوانوں کو بڑی حد تک ریلیف ملے گا جن کے خلاف صرف احتجاج میں شرکت کی بنیاد پر کارروائیاں شروع کی گئی تھیں، جب کہ حکومت نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ قانون شکنی یا مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کے معاملات الگ قانونی اصولوں کے تحت ہی نمٹائے جائیں گے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر