مودی مخالف تبصرہ مہنگا پڑا، نوجوان خاتون پر ایف آئی آر
جنتر منتر احتجاج میں مودی کے خلاف مبینہ نازیبا زبان پر نوئیڈا کی خاتون کے خلاف ایف آئی آر، سی جے پی اور مہوا موئترا نے پولیس کارروائی پر اعتراض کیا۔
نئی دہلی: جنتَر منتر میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران وزیرِاعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا اور قابلِ اعتراض الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں نوئیڈا کی ایک نوجوان خاتون کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔ اس معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مرکزی ترجمان سوربھ داس نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے پولیس کارروائی پر سوال اٹھائے ہیں۔سوربھ داس نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر کسی احتجاج کے دوران نامناسب زبان استعمال کی گئی ہے تو اس پر تنقید کی جاسکتی ہے، لیکن پولیس کے ذریعے کسی ایک شخص کو نشانہ بنانا یا اسے ہراساں کرنا درست طرزِ عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف سخت یا تلخ زبان استعمال کرنا بذاتِ خود ایسا جرم نہیں ہونا چاہیے جس پر ریاستی مشینری پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آجائے۔انہوں نے مزید کہا کہ روزمرہ زندگی میں بھی لوگ اکثر سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں، لیکن ہر معاملے میں فوجداری کارروائی نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق ملک میں ایسے کئی عوامی نمائندے موجود ہیں جن کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں، اس کے باوجود ان کے معاملات میں اسی شدت سے کارروائی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ سوربھ داس نے الزام لگایا کہ نوجوان مظاہرین کو مثال بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔
سی جے پی کے ترجمان نے حکومت اور پولیس سے اپیل کی کہ نوجوانوں کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنانا بند کیا جائے اور اس خاتون کو مزید قانونی دباؤ میں نہ رکھا جائے۔ ان کے مطابق ایسے معاملات میں پولیس اختیارات کا استعمال انتہائی محتاط انداز میں ہونا چاہیے تاکہ اظہارِ رائے اور قانون کے درمیان توازن برقرار رہے۔دوسری جانب ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی اس کارروائی پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ 25 سالہ مظاہرہ کرنے والی روچیکا سنگھ کے خلاف سرکاری مشینری کا اس انداز میں استعمال تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا یہ رویہ انتقامی سیاست کی عکاسی کرتا ہے اور جمہوری اقدار کے لیے مناسب نہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ غازی آباد کی رہائشی اسمرتی سنگھ کی شکایت پر بدھ کے روز ایکسپریس وے پولیس تھانے میں نوئیڈا کی رہائشی روچیکا سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران انہوں نے وزیرِاعظم نریندر مودی کے بارے میں توہین آمیز اور قابلِ اعتراض الفاظ استعمال کیے۔شکایت میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ ریمارکس سے نہ صرف ایک آئینی عہدے کے وقار کو نقصان پہنچا بلکہ اس سے عوام میں نفرت پھیلنے اور امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوا۔ تاہم اس معاملے میں پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور سرکاری سطح پر مزید قانونی کارروائی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔






