سیبی کا شکنجہ سخت، زی انٹرٹینمنٹ اور پروموٹرز پر کارروائی
سیبی نے سبھاش چندر، پونیت گوئنکا اور زی انٹرٹینمنٹ پر ضابطہ خلاف ورزی کے الزام میں پابندیاں عائد کرکے 1.48 کروڑ روپے جرمانہ کردیا۔
بھارتی سرمایہ بازار کے نگران ادارے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے ایسل گروپ کے بانی سبھاش چندر اور زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پونیت گوئنکا پر شیئر بازار سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینے پر ایک سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی زی انٹرٹینمنٹ پر بھی دو ماہ کی پابندی نافذ کی گئی ہے۔ ریگولیٹر نے تینوں فریقوں پر مجموعی طور پر 1.48 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔سیبی کے حکم کے مطابق زی انٹرٹینمنٹ کو 30 لاکھ روپے، سبھاش چندر کو 60 لاکھ روپے اور پونیت گوئنکا کو 58 لاکھ روپے بطور جرمانہ ادا کرنے ہوں گے۔ ریگولیٹر نے ہدایت دی ہے کہ یہ تمام رقم 45 دن کے اندر جمع کرائی جائے۔
یہ کارروائی ایک ایسے معاملے کے سلسلے میں کی گئی ہے جس کا تعلق 27 دسمبر 2018 کو کیے گئے ایک ڈپازٹ اینڈ ڈیکلریشن معاہدے سے ہے۔ اس معاہدے کے تحت زی انٹرٹینمنٹ کی حیدرآباد میں واقع ایک جائیداد کے اصل کاغذات انڈیابُلز ہاؤسنگ فنانس لمیٹڈ کے پاس جمع کرائے گئے تھے۔ بعد ازاں انہی دستاویزات کو ایسل ہوم اور ایسل گروپ سے وابستہ دیگر کمپنیوں کے قرضوں کے لیے بطور ضمانت استعمال کیا گیا۔سیبی کا کہنا ہے کہ اس اہم لین دین سے قبل کمپنی کی آڈٹ کمیٹی سے لازمی منظوری حاصل نہیں کی گئی، حالانکہ فہرست شدہ کمپنیوں کے لیے ایسا کرنا ضابطوں کے تحت ضروری تھا۔ ریگولیٹر کے مطابق یہ اقدام لسٹنگ سے متعلق قواعد اور انکشافات کے تقاضوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کمپنی نے اس معاملے کی مکمل اور ضروری تفصیلات اپنی مالیاتی رپورٹوں میں ظاہر نہیں کیں، جس سے سرمایہ کاروں کو درست معلومات فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں ہو سکی۔سیبی کے مطابق پونیت گوئنکا اور سبھاش چندر دونوں کو اس بات کا علم تھا کہ حیدرآباد کی مذکورہ جائیداد کو قرض کی ضمانت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے اصل کاغذات جون 2020 تک قرض فراہم کرنے والے ادارے کے پاس موجود رہے۔
ریگولیٹر نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ سبھاش چندر نے کمپنی کے چیئرمین کی حیثیت کا غلط استعمال کیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کمپنی کی جائیداد کے اصل دستاویزات قرض دینے والے ادارے کے حوالے کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ اس اقدام کو کمپنی انتظامیہ کی منظوری حاصل ہے، جب کہ تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اسی بنیاد پر سیبی نے پابندیوں اور جرمانوں کا فیصلہ سنایا۔






