برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی
برطانیہ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان کیا، قانون 2027 کے آغاز سے نافذ ہوگا۔
برطانیہ کی حکومت نے کم عمر بچوں کے آن لائن تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی، جس کا مقصد نوجوان نسل کو انٹرنیٹ کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔وزیراعظم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ بچوں کی ذہنی صحت، سلامتی اور مجموعی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں جزوی اقدامات کافی نہیں ہوں گے، بلکہ مکمل پابندی ہی مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بچوں کے تحفظ کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
حکومتی منصوبے کے مطابق متعلقہ قوانین کو رواں سال کے اختتام سے قبل پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر قانون سازی کا عمل مقررہ وقت پر مکمل ہو گیا تو نئی پابندیاں 2027 کے آغاز سے نافذ العمل ہو جائیں گی۔بعد ازاں برطانوی حکومت کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا کہ مجوزہ پابندی کے دائرے میں متعدد معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز شامل ہوں گے۔ ان میں اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز کا نام لیا گیا ہے۔ تاہم واٹس ایپ اور سگنل جیسی میسجنگ سروسز کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا جائے گا کیونکہ ان کا بنیادی مقصد نجی پیغام رسانی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے بچوں کی ذہنی صحت، تعلیمی سرگرمیوں اور سماجی رویوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے نئی پالیسی کے ذریعے کم عمر صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس نوعیت کے اقدامات دنیا کے مختلف ممالک میں زیر غور ہیں۔ گزشتہ برس دسمبر میں آسٹریلیا ایسا قانون نافذ کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا تھا جس کے تحت کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ برطانیہ کا حالیہ فیصلہ بھی اسی عالمی رجحان کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد بچوں کے لیے زیادہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے۔





