شاملی آیوش ملک(محمد علی) کیس، سوشل میڈیا مواد پر نئے مقدمات
شاملی آیوش ملک کیس میں سوشل میڈیا مواد پر تین ایف آئی آر، پولیس نے تحقیقات مہاراشٹر تک پھیلائیں، بحث جاری۔
شاملی (اتر پردیش): مغربی اتر پردیش کے ضلع شاملی میں آیوش ملک کے مبینہ مذہب تبدیلی کے معاملے نے ایک بار پھر نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پولیس نے اس کیس سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے مبینہ فرضی، گمراہ کن اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کے خلاف مزید تین نئے مقدمات درج کر لیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ مقدمات اصل مذہب تبدیلی کے کیس سے الگ نوعیت کے ہیں اور ان کی تفتیش خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے سپرد کر دی گئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں کے دوران مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آیوش ملک سے متعلق متعدد پوسٹس، ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی گئیں، جن میں بعض کو ابتدائی جانچ کے بعد مشتبہ قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایک مقدمہ اس دعوے پر درج کیا گیا ہے جس میں ایک خاتون کو آیوش ملک کی بہن ظاہر کیا گیا، جبکہ دو دیگر مقدمات مبینہ طور پر اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز اور ان کے پھیلاؤ سے متعلق ہیں۔ضلع کے پولیس سربراہ نریندر پرتاپ سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ ان کیسز کی جانچ کے دوران ایک شخص کو حراست میں لیا گیا، جس کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا۔ بعد ازاں اسے عدالتی کارروائی کے بعد جیل بھیج دیا گیا۔ ان کے مطابق تفتیشی ٹیمیں مزید معلومات کے لیے مہاراشٹر بھی روانہ کی گئی ہیں تاکہ وہاں موجود مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا سکے اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ دنوں میں آیوش ملک کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ کلین شیو نظر آ رہے ہیں۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ اس تصویر کی اصل حقیقت کی تصدیق ابھی جاری ہے کہ آیا یہ حقیقی ہے یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔ آیوش ملک اس وقت اپنے گھر پر موجود ہیں اور ان کی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔یاد رہے کہ آیوش ملک نے کچھ روز قبل ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اپنی مرضی اور بغیر کسی دباؤ کے اسلام قبول کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے ان کی مبینہ اہلیہ چاندنی قریشی، ان کے والد اور ایک دیگر رشتہ دار کو گرفتار کیا تھا، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔مذہب تبدیلی کے بعد آیوش ملک نے اپنا نام ’’محمد علی‘‘ رکھ لیا ہے۔
اس پورے معاملے کے تناظر میں سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس پورے ماحول پر تنقید کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ بھارت میں ایک خاص طرزِ فکر کے تحت مذہب تبدیل کرنے کے عمل کو متنازع بنایا جاتا ہے، اور بعض اوقات ’’گھر واپسی‘‘ کے نام پر ہندو مذہب اختیار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور انعامات کا اعلان کیا جاتا ہے، جب کہ دوسری طرف اگر کوئی شخص اسلام یا کسی اور مذہب کو اختیار کرے تو اس کے خلاف سخت ردِعمل سامنے آتا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق ایسے معاملات میں بعض اوقات انتظامی رویے بھی غیر جانبدار محسوس نہیں ہوتے، جس سے معاشرتی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔






