ساکیت کے قریب پانچ منزلہ عمارت گرنے سے متعدد افراد پھنسے
ساکیت دہلی میں پانچ منزلہ عمارت گر گئی، کئی افراد پھنسے، ریسکیو جاری، کوچنگ سینٹر متاثر، طلبہ کے دبنے کا خدشہ۔
جنوبی دہلی میں ہفتے کی شام ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جب ساکیت میٹرو اسٹیشن کے قریب ایک پانچ منزلہ عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ اس واقعے کی اطلاع سب سے پہلے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے حکام کے حوالے سے دی۔ حکام کے مطابق عمارت کے منہدم ہونے کے بعد اس کے ملبے کے نیچے متعدد افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ریسکیو آپریشن فوری طور پر شروع کر دیا گیا۔موقع پر موجود عہدیداروں نے بتایا کہ پوری عمارت چند لمحوں میں بری طرح گر گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔ یہ صورتحال انتہائی خطرناک اور تشویشناک قرار دی جا رہی ہے کیونکہ عمارت کے اندر اس وقت موجود لوگوں کی تعداد کا حتمی اندازہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکا۔
پولیس حکام نے پی ٹی آئی کو مزید بتایا کہ اس عمارت کے نچلے حصے یعنی گراؤنڈ فلور پر ایک کوچنگ سینٹر کام کر رہا تھا جہاں طلبہ کی آمد و رفت معمول کے مطابق رہتی تھی۔ اسی دوران اوپر کی منزلوں پر تعمیراتی یا مرمتی کام جاری تھا، جس کی وجہ سے عمارت پہلے ہی کمزور حالت میں ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے اس امکان کو مزید بڑھا دیا ہے کہ ملبے کے نیچے دبنے والوں میں طلبہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو حادثے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔دوسری جانب مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹس میں مقام کے حوالے سے تھوڑا اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔ کچھ اطلاعات میں اسے ساکیت پولیس اسٹیشن کی حدود میں بتایا جا رہا ہے جبکہ ایک اور ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ مہراولی پولیس تھانے کے دائرہ اختیار میں پیش آیا۔ تاہم دونوں رپورٹس اس بات پر متفق ہیں کہ عمارت مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
مزید برآں ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جسے خبر رساں ادارے اے این آئی نے جاری کیا ہے۔ اس ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ عمارت کے گرنے کے بعد وہاں صرف اینٹوں اور کنکریٹ کا ڈھیر رہ گیا ہے جبکہ ریسکیو اہلکار ملبے کو ہٹانے اور ممکنہ طور پر زندہ افراد کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔حادثے کے فوراً بعد مقامی انتظامیہ، پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور جیسے ہی مزید معلومات سامنے آئیں گی، عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔





