چھ ارکان کی بغاوت، ادھو ٹھاکرے کو بڑا سیاسی نقصان
مہاراشٹر میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے چھ ارکانِ پارلیمنٹ شندے گروپ میں شامل، ادھو ٹھاکرے اور ایم وی اے کو بڑا جھٹکا۔
ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر بڑی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے۔ شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) سے تعلق رکھنے والے چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے باضابطہ طور پرنائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو ادھو ٹھاکرے اور مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے لیے ایک اہم دھچکا قرار دے رہے ہیں۔سیاسی حلقوں میں کافی عرصے سے زیرِ بحث ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کی کامیابی نے مہاراشٹر کی سیاست کا رخ بدلنے کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔ 2022 میں شیوسینا کے متعدد اراکینِ اسمبلی کی بغاوت کے بعد یہ دوسرا بڑا موقع ہے جب ادھو ٹھاکرے کے سیاسی اثر و رسوخ کو چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف شیوسینا (یو بی ٹی) کے چھ ارکانِ پارلیمنٹ کے انخلا تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر پورے اپوزیشن اتحاد پر پڑ سکتا ہے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ان نشستوں کی کامیابی میں کانگریس اور این سی پی (شرد پوار) سمیت مہاوکاس اگھاڑی کی مشترکہ انتخابی حکمت عملی کا بھی اہم کردار تھا۔ ایسے میں ان ارکان کا شندے گروپ میں جانا اپوزیشن اتحاد کی کمزور ہوتی گرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
لوک سبھا انتخابات 2024 کے بعد یہ تاثر ابھرا تھا کہ ایم وی اے ریاست میں دوبارہ مضبوط سیاسی واپسی کر سکتی ہے، تاہم بعد کے مختلف انتخابات میں مہایوتی اتحاد نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ اسمبلی، مقامی بلدیاتی اداروں اور دیگر انتخابی معرکوں میں حکمران اتحاد کی برتری نے اپوزیشن کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق ادھو ٹھاکرے اب ان حلقوں کا دورہ کر سکتے ہیں جہاں سے یہ ارکانِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔ اس حکمت عملی کا مقصد کارکنوں اور ووٹروں کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ اگرچہ منتخب نمائندے پارٹی چھوڑ گئے ہیں، لیکن تنظیمی ڈھانچہ اور بنیادی کارکن اب بھی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
دوسری جانب اس پیش رفت کا سب سے زیادہ فائدہ ایکناتھ شندے کو ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ شندے نے نہ صرف 2022 کی بغاوت کے بعد اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھی بلکہ اب پارلیمانی سطح پر بھی اپنی طاقت میں نمایاں اضافہ کر لیا ہے۔ چھ نئے ارکان کی شمولیت کے بعد ان کے گروپ کی پارلیمانی قوت مزید مضبوط ہو گئی ہے، جس سے قومی سیاست میں ان کا وزن بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ مہاوکاس اگھاڑی کے لیے ایک انتباہ ہے جب کہ مہایوتی اتحاد کے لیے نئی سیاسی توانائی کا باعث بن سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں سب کی نظریں اس بات پر مرکوز رہیں گی کہ آیا ادھو ٹھاکرے اور ان کے اتحادی اس صورتحال سے نکلنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی ترتیب دے پاتے ہیں یا نہیں۔ اگر اپوزیشن اتحاد اندرونی اختلافات پر قابو نہ پا سکا تو مہاراشٹر کی سیاست میں طاقت کا توازن مزید شندے اور ان کے اتحادیوں کے حق میں جاتا دکھائی دے سکتا ہے۔






