محرم کے دوران پابندیوں پر ہائی کورٹ نے روک لگادی
چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے محرم کے پیش نظر وقف بورڈ کی ڈی جے، براس بینڈ اور آتش بازی پابندی عارضی طور پر معطل کردی۔
چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے ریاست میں مذہبی تقریبات کے دوران ڈی جے، براس بینڈ، آتش بازی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں پر عائد پابندی کے حکم کو فی الحال معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے یہ عبوری راحت اگلی سماعت تک فراہم کی ہے، جس کے باعث متعلقہ حکم فی الوقت نافذ العمل نہیں رہے گا۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب چھتیس گڑھ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے 11 جون کو ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔ اس حکم میں کہا گیا تھا کہ مذہبی پروگراموں میں بعض سرگرمیوں پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں منتظمین یا متعلقہ کمیٹیوں پر پچاس ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
اس فیصلے کو صوفی اسلامک بورڈ کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کی پابندیاں عائد کرنا ریاستی وقف بورڈ کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکم کے نفاذ سے عوامی سطح پر بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب محرم الحرام کی مذہبی سرگرمیاں جاری ہیں۔منگل کے روز جسٹس امیتیندر کشور پرساد کی سنگل بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محرم کے دوران اس حکم کو نافذ کرنے سے عوامی ردعمل سامنے آ سکتا ہے اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
دوسری جانب وقف بورڈ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جن مقامات پر مذہبی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں وہ وقف کی ملکیت ہیں، لہٰذا بورڈ کو انتظامی اختیارات حاصل ہیں اور انہی اختیارات کے تحت یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں۔دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے مشاہدہ کیا کہ محرم 26 جون کو ہے اور اس سے متعلق مذہبی سرگرمیاں پہلے ہی جاری ہیں۔ ایسے حالات میں فوری طور پر پابندیوں کا نفاذ عوامی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے 11 جون کے حکم نامے کے نفاذ اور اس کے اثرات پر اگلی سماعت تک روک لگا دی۔
عدالت نے فریقِ مخالف کو جواب داخل کرنے کے لیے وقت بھی فراہم کیا ہے۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت تقریباً چار ہفتوں بعد مقرر کی گئی ہے، جہاں اس معاملے پر مزید قانونی بحث اور دلائل پیش کیے جائیں گے۔






