یو پی آئی صارفین کو بڑی راحت، ادائیگی پر کوئی فیس نہیں لگے گی
حکومت نے واضح کیا کہ یو پی آئی صارفین اور چھوٹے تاجروں سے ڈیجیٹل ادائیگی پر کوئی اضافی فیس نہیں لی جائے گی۔
نئی دہلی: بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگی کے سب سے بڑے ذرائع میں شامل یو پی آئی (یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس) کے استعمال سے متعلق حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی تشویش کو حکومت اور متعلقہ اداروں نے دور کر دیا ہے۔ پے منٹس کونسل آف انڈیا نے واضح کیا ہے کہ یو پی آئی کے ذریعے رقم کی ادائیگی کرنے والے صارفین سے کسی قسم کی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اس وضاحت کا اطلاق چھوٹے تاجروں پر بھی ہوگا، جن میں کریانہ اسٹور اور دیگر چھوٹے کاروباری ادارے شامل ہیں۔یہ وضاحت ان خبروں کے بعد سامنے آئی جن میں بعض کاروباری لین دین پر مرچنٹ چارج عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ ان خبروں کے باعث یو پی آئی صارفین میں یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ مستقبل میں ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے انہیں اضافی رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ لیکن پے منٹس کونسل نے واضح کر دیا کہ عام صارفین کے لیے یو پی آئی کی سہولت بدستور مفت رہے گی۔
وزیراعظم دفتر نے بھی پے منٹس کونسل کی اس وضاحت سے متعلق خبر کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیا، جس کے بعد اس معاملے پر حکومتی موقف مزید واضح ہوگیا۔ادھر ڈیجیٹل ادائیگی کی معروف کمپنی فون پے کے بانی اور چیف ایگزیکٹو سمیر نگم نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے صارفین کو یقین دہانی کرائی کہ یو پی آئی ادائیگیوں پر عام صارفین سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یو پی آئی مفت ہے اور ملک بھر کے صارفین کے لیے مفت ہی رہے گا۔اس سے قبل وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بھی اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیجیٹل لین دین سے متعلق مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) کا تعلق صارفین سے نہیں بلکہ تاجروں سے ہوتا ہے۔ ان کا یہ بیان کانگریس رہنما جے رام رمیش کے اس خدشے کے جواب میں آیا تھا جس میں انہوں نے یو پی آئی استعمال کرنے والوں پر مستقبل میں اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔
معاشی ماہر جیتی گھوش نے وزیر خزانہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فیس براہِ راست صارفین سے نہ لی جائے، لیکن اس کی بالواسطہ لاگت بالآخر عام صارفین تک منتقل ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یو پی آئی کے ذریعے لین دین کرنے والے بہت سے تاجر چھوٹے اور مائیکرو کاروبار سے وابستہ ہیں، اس لیے کسی بھی اضافی لاگت کا اثر عام لوگوں اور چھوٹے کاروباری طبقے پر پڑ سکتا ہے۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب پارلیمنٹ میں پے منٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پیش کی گئیں۔ ان ترامیم کے بعد مختلف حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ یو پی آئی لین دین پر فیس عائد کی جا سکتی ہے۔تاہم حکومت اور پے منٹس کونسل کی تازہ وضاحت نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق عام صارفین یو پی آئی کے ذریعے پہلے کی طرح بغیر کسی اضافی فیس کے ڈیجیٹل ادائیگی جاری رکھ سکیں گے۔






