خبرنامہ

ایران کا سخت مؤقف، امریکی مطالبات ماننے تک ہرمز بند رکھنے کا اعلان

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک کے عوام کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ جنگی حالات کے باعث انہیں مزید مشکلات اور ضروری اشیا کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے عوام کو حالات کی سختی برداشت کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران معمول کے حالات برقرار رہنے کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں۔پزشکیان کے مطابق بعض حلقوں کی خواہش ہے کہ امریکہ اور یورپ میں مہنگائی میں اضافہ ہو، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ایران، جو اس وقت جنگی صورت حال سے گزر رہا ہے، وہاں قیمتیں نہ بڑھیں۔ ایرانی صدر نے اس سوچ کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے اثرات سے کسی ملک کا مکمل طور پر محفوظ رہنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران اشیا کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے اور مختلف ضروریات کی کمی پیدا ہونا بھی بعید از قیاس نہیں۔ ایسی صورت حال میں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق ایران جنگ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے معاشی اور سماجی اثرات کو بھی برداشت کرے گا۔ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں ملک کی قیادت کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ سے خوف زدہ نہیں ہیں اور انقلاب کے رہنما جو فیصلہ کریں گے، وہ اس پر آخر تک قائم رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم مشکل حالات میں بھی اپنی مزاحمت جاری رکھے گی اور کسی دباؤ کے سامنے آسانی سے نہیں جھکے گی۔دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران اس اہم بحری گزرگاہ کو اس وقت تک دوبارہ کھولنے پر آمادہ نہیں ہوگا جب تک امریکہ ایران کی جانب سے پیش کردہ متعدد مطالبات کو تسلیم نہیں کرتا۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی مطالبات میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ، ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ، ایران کو دی جانے والی دھمکیوں کا سلسلہ بند کرنا اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کو بحال کرنا شامل ہے۔ایران کا یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ تصور کی جاتی ہے۔ اس کے کھلے یا بند رہنے کا اثر تیل کی عالمی ترسیل اور بین الاقوامی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی سخت شرائط کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان فوری مفاہمت یا کسی جامع معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار رہنے کی صورت میں جنگی کشیدگی کے ساتھ ساتھ اقتصادی دباؤ میں بھی مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر