خبرنامہ

لکھنؤ کوچنگ سینٹر آتشزدگی، 15 معصوم طلبہ کی دردناک موت

لکھنؤ: اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں ایک کوچنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ اس افسوسناک حادثے میں 15 کمسن طلبہ جان کی بازی ہار گئے، جب کہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بیشتر طلبہ کی موت آگ کی لپیٹ میں آنے اور دھوئیں کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی۔یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند روز قبل دہلی میں ایک رہائشی عمارت میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں بھی کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مسلسل پیش آنے والے ایسے سانحات نے عمارتوں میں حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی قوانین کے نفاذ اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں فائر سیفٹی سے متعلق قوانین اور ضوابط موجود ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث تعلیمی ادارے، کوچنگ سینٹر، لائبریریاں اور گیسٹ ہاؤسز کئی مقامات پر خطرناک صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اکثر عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے مناسب راستے، آگ بجھانے کے آلات، دھواں محسوس کرنے والے سینسر اور دیگر بنیادی حفاظتی سہولیات موجود نہیں ہوتیں۔فائر سیفٹی اصولوں کے مطابق بلند عمارتوں اور عوامی استعمال کی جگہوں کے لیے متعلقہ محکمہ سے فائر این او سی حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ عمارت کے اطراف کھلی جگہ، ایمرجنسی اخراج کے متعدد راستے، پانی کے ذخائر، فائر فائٹنگ سسٹم اور جدید الارم سسٹم بھی ضروری قرار دیے گئے ہیں۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ متعدد ادارے ان تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آگ لگنے کے بیشتر واقعات میں اصل خطرہ شعلوں سے زیادہ دھوئیں اور بروقت اطلاع نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر تعلیمی اور تجارتی ادارے میں اسموک ڈٹیکٹر، ایمرجنسی الارم، پبلک ایڈریس سسٹم اور روشن ایگزٹ سائنز کی موجودگی انتہائی ضروری سمجھی جاتی ہے۔اس سانحے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا متعلقہ اداروں کی جانب سے حفاظتی ضوابط کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے یا نہیں۔ متعدد سماجی حلقوں کا ماننا ہے کہ بعض مقامات پر صرف کاغذی کارروائی کے ذریعے حفاظتی سرٹیفکیٹ حاصل کر لیے جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر حفاظتی انتظامات ناکافی ہوتے ہیں۔
تعلیمی مراکز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ کو بٹھانا، تنگ راستوں والی عمارتوں کا استعمال، اور ایمرجنسی اخراج کے متبادل راستوں کا نہ ہونا بھی ایسے حادثات میں جانی نقصان بڑھانے کی اہم وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔ اگر آگ داخلی راستے یا نچلی منزل پر لگ جائے تو عمارت میں موجود افراد کے لیے باہر نکلنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔عوامی حلقوں اور ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، حفاظتی انتظامات سے محروم اداروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور غفلت برتنے والوں کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین اور طلبہ کو بھی تعلیمی ادارے کے انتخاب کے وقت حفاظتی سہولیات کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق انسانی جانوں کا تحفظ کسی بھی تجارتی مفاد سے زیادہ اہم ہے، اور مؤثر نگرانی ہی ایسے سانحات کی روک تھام کا واحد راستہ ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر