ایران کا امریکہ پر جنگ بندی توڑنے کا سنگین الزام
ایران نے امریکی حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے کر سخت ردعمل کی دھمکی دی، امریکہ نے کارروائی دفاعی بتایا۔
ایران نے جنوبی علاقوں پر ہونے والے حالیہ امریکی حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی امریکی افواج کی کارروائیاں جاری رہیں، جنہیں تہران نے اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ 9 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد امریکی فوج نے متعدد مرتبہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ بیان میں خاص طور پر صوبہ ہرمزگان میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر کیا گیا، جہاں گزشتہ دو دنوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ ملک اپنی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کرے گا اور ہر حملے کا جواب دینا اپنا حق سمجھتا ہے۔
ادھر اسلامی انقلابی گارڈ کور، یعنی آئی آر جی سی، نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رہی تو ایران مناسب اور فیصلہ کن ردِعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایرانی فوجی قیادت کے مطابق ملک کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ایرانی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ پیر کے روز بندر عباس اور اس کے اطراف، خصوصاً ہوائی اڈے کے نزدیک، زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان اطلاعات کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ جنوبی ایران میں مخصوص اہداف پر کارروائیاں کی گئی ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں میزائل تنصیبات اور ایسی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ امریکی حکام نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئیں۔تازہ صورتحال کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔





