شمالی کوریا کا جوہری پروگرام مزید مضبوط بنانے کا اعلان
شمالی کوریا نے جوہری صلاحیت بڑھانے اور جنوبی کوریا پر فوجی نگرانی مزید سخت کرنے کا اعلان، خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات۔
شمالی کوریا نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں اہم پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی جوہری صلاحیت کو معیار اور تعداد، دونوں اعتبار سے مزید مضبوط بنائے گا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ملک کی قیادت نے قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر دفاعی تیاریوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ حکمراں جماعت کے مرکزی فوجی کمیشن کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جہاں قومی دفاع، جوہری پروگرام اور فوجی انٹیلی جنس سے متعلق متعدد اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جنوبی کوریا سے متعلق معلومات جمع کرنے والی فوجی خفیہ ایجنسی کی ذمے داریوں اور اختیارات کو مزید وسعت دی جائے تاکہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر مؤثر انداز میں نظر رکھی جا سکے۔
شمالی کوریا کا مؤقف ہے کہ ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دفاعی صلاحیت میں مسلسل اضافہ ضروری ہے۔ اسی تناظر میں جوہری پروگرام کو مزید ترقی دینے کا فیصلہ سامنے آیا ہے، جسے وہاں کی قیادت اپنی قومی دفاعی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتی ہے۔دوسری جانب شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر عالمی برادری کی جانب سے پہلے ہی مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد ہیں۔ کئی ممالک اور بین الاقوامی ادارے مسلسل اس پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے آئے ہیں۔
یاد رہے کہ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ کا اختتام کسی مستقل امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی پر ہوا تھا۔ اسی وجہ سے شمالی اور جنوبی کوریا آج بھی قانونی اعتبار سے مکمل امن کی حالت میں نہیں بلکہ تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں سمجھے جاتے ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات وقتاً فوقتاً کشیدگی کا شکار رہتے ہیں۔علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیونگ یانگ اب جنوبی کوریا کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس پالیسی کے نتیجے میں جزیرہ نما کوریا میں دفاعی سرگرمیوں اور سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔






