ہائی کورٹ سے ممتا بنرجی دھڑے کو بڑی عبوری راحت ملی
ترنمول کانگریس کے منجمد بینک کھاتوں کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے اسپیشل افسر مقرر کرتے ہوئے ضروری اخراجات کی اجازت دے دی۔
کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز ترنمول کانگریس کے منجمد کیے گئے تین بینک کھاتوں کے معاملے میں ممتا بنرجی کے حامی دھڑے کو عبوری راحت فراہم کر دی ہے۔ عدالت نے ان کھاتوں کے انتظام اور ضروری ادائیگیوں کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی افسر مقرر کیا ہے تاکہ پارٹی کے روزمرہ اخراجات متاثر نہ ہوں۔جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے اپنے عبوری حکم میں ریٹائرڈ جج سبرت تالکدار کو اسپیشل آفیسر مقرر کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ افسر پارٹی کے معمول کے انتظامی اور قانونی اخراجات کے لیے ان کھاتوں سے رقم جاری کر سکتے ہیں، لیکن کسی فرد یا ادارے کو بڑی رقم ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت 21 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر مستقبل میں الیکشن کمیشن ترنمول کانگریس کے کسی مخصوص گروپ کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیتا ہے تو اس صورت میں موجودہ عبوری انتظام پر نظرثانی کے لیے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب 18 جون کو بیدھان نگر کے سائبر تھانے میں ایک شکایت درج کرائی گئی۔ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے ایف آئی آر درج کرتے ہوئے متعلقہ بینکوں کو ان کھاتوں میں ہونے والے لین دین پر روک لگانے کی ہدایت دی تھی۔ شکایت میں شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک مبینہ بڑے سائبر فراڈ سے وابستہ کچھ رقم ترنمول کانگریس کے کھاتوں تک پہنچی ہو سکتی ہے، جس کی جانچ جاری ہے۔
پولیس کے اس اقدام کے خلاف ممتا بنرجی کے حامی دھڑے نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور کھاتوں پر پابندی ختم کرنے کی درخواست دی۔ پارٹی کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے مؤقف اختیار کیا کہ کھاتے منجمد رہنے سے جماعت کا معمول کا کام متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق انہی کھاتوں سے پارٹی دفاتر کا کرایہ، بجلی کے بل، ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر ضروری اخراجات ادا کیے جاتے ہیں۔عدالت کے تازہ حکم کے بعد اگرچہ کھاتوں پر عائد مکمل پابندی برقرار رہے گی، لیکن خصوصی افسر کی نگرانی میں محدود مالی لین دین کی اجازت ملنے سے پارٹی کو اپنے ضروری اخراجات پورے کرنے میں سہولت حاصل ہو سکے گی۔ معاملے کی حتمی قانونی حیثیت آئندہ سماعتوں اور تفتیشی پیش رفت کے بعد طے ہوگی۔






