رائے پور فیکٹری دھماکہ، تین مزدور جان سے گئے، علاقے میں خوف
چھتیس گڑھ کے رائے پور میں فیکٹری کے آکسیجن سلنڈر دھماکے سے تین مزدور جاں بحق، امدادی کارروائیاں اور حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔
چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور کے اُرلا صنعتی علاقے میں واقع ایک صنعتی فیکٹری میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں تین مزدور جان کی بازی ہار گئے، جب کہ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فائر بریگیڈ، ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیم اور فیکٹری انتظامیہ کے اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔پولیس حکام کے مطابق فیکٹری میں خام لوہے کو پگھلا کر مختلف گاڑیوں کے پرزے تیار کیے جاتے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فیکٹری کے فرنس کے قریب نصب آکسیجن سلنڈر میں اچانک دھماکا ہوا، جس کی زد میں وہاں کام کرنے والے مزدور آ گئے۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ موقع پر موجود کارکن سنبھلنے کا موقع بھی نہ پا سکے اور تین افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
حکام نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں دو مزدور مدھیہ پردیش کے ضلع ڈنڈوری سے تعلق رکھتے تھے، جب کہ تیسرے مزدور کا تعلق چھتیس گڑھ کے ضلع جانجگیر۔چامپا سے بتایا گیا ہے۔ تینوں کی لاشیں ضروری قانونی کارروائی کے بعد اہل خانہ کے حوالے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت پولیس نے فیکٹری کے اطراف کا علاقہ خالی کرا لیا تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ امدادی ٹیموں نے کئی گھنٹوں تک ملبے اور متاثرہ حصوں کا جائزہ لیا، جبکہ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کہیں مزید نقصان یا کسی اور شخص کے پھنسے ہونے کا خدشہ تو موجود نہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد فیکٹری کے اندر اور اطراف میں گھنا دھواں پھیل گیا، جس سے کچھ دیر کے لیے پورا علاقہ دھندلا گیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز تقریباً آدھے کلومیٹر تک سنی گئی، جس کے باعث قریبی صنعتی یونٹس اور رہائشی علاقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔پولیس اور متعلقہ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ماہرین فیکٹری کے حفاظتی انتظامات، آکسیجن سلنڈر کے استعمال اور فرنس کے آپریشن سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ دھماکے کی اصل وجہ سامنے آ سکے اور مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔






