سرکاری نوکری اور جائیداد کی خاطر بیٹی نے ماں قتل کروا دی
پولیس کے مطابق بیٹی نے سرکاری ملازمت اور جائیداد کی لالچ میں رشتہ داروں کے ساتھ مل کر ماں کے قتل کی مبینہ سازش رچی۔
جے پور: راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ایک دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں پولیس کا دعویٰ ہے کہ ایک نوجوان خاتون نے سرکاری ملازمت اور قیمتی جائیداد حاصل کرنے کی خواہش میں اپنی ہی والدہ کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ اس کیس میں اب تک سات ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ ایک مرکزی ملزم تاحال مفرور ہے۔پولیس کے مطابق ایئرپورٹ کالونی کی رہائشی 45 سالہ نیرج شرما، جو عدالت میں لوئر ڈویژن کلرک (LDC) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہی تھیں، 3 جولائی کی شام اپنے بیٹے کو کوچنگ چھوڑ کر واپس گھر آ رہی تھیں۔ اسی دوران ایک تیز رفتار اسکارپیو گاڑی نے انہیں زوردار ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔
ابتدائی طور پر یہ واقعہ ایک عام سڑک حادثہ معلوم ہوا، تاہم علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لینے پر پولیس کو شبہ ہوا کہ یہ ایک منظم منصوبے کے تحت کی گئی واردات ہے۔ اس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا اور کئی اہم حقائق سامنے آئے۔تحقیقات کے مطابق نیرج شرما کے شوہر، جو عدالت میں ایل ڈی سی تھے، تقریباً ایک سال قبل انتقال کر گئے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ہمدردانہ (انوکمپا) بنیاد پر نیرج شرما کو سرکاری ملازمت دی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی 24 سالہ بیٹی آیوشی شرما خود یہ ملازمت حاصل کرنا چاہتی تھی، لیکن والدہ کے تقرر کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔پولیس کے مطابق ماں اور بیٹی کے درمیان جائیداد کے معاملے پر بھی کافی عرصے سے تنازع چل رہا تھا۔ الزام ہے کہ آیوشی نے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر والدہ کو راستے سے ہٹانے کی سازش تیار کی تاکہ سرکاری ملازمت، جے پور کے مکانات اور کروڑوں روپے مالیت کی زمین پر اس کا قبضہ ہو سکے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ پہلے نیرج شرما کو تھار گاڑی سے کچلنے کی مبینہ کوشش کی گئی، مگر وہ محفوظ رہیں۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے گھر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کروائے اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنا کم کر دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ملزمان نے مبینہ طور پر سات لاکھ روپے میں قتل کی سازش طے کی۔ کئی دن تک مقتولہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی اور آخرکار منصوبہ بندی کے تحت اسکارپیو گاڑی سے ٹکر مار کر قتل کر دیا گیا۔ڈی سی پی ایسٹ رنجیتا شرما کے مطابق واردات کے روز مختلف ملزمان الگ الگ ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ ایک ملزم مقتولہ کی لوکیشن مسلسل شیئر کر رہا تھا، جبکہ دیگر افراد نگرانی اور گاڑی چلانے میں شامل تھے۔ واردات کے بعد ملزمان اسکارپیو چھوڑ کر موٹر سائیکل کے ذریعے فرار ہو گئے۔
مقتولہ کے بھائی راکیش کمار شرما نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بہن پہلے بھی بیٹی اور سسرالی رشتہ داروں کی جانب سے جائیداد کے تنازع اور دھمکیوں کا ذکر کر چکی تھیں۔پولیس نے اس مقدمے میں آیوشی شرما، موہن سوروپ شرما، موہت شرما، آکاش شرما، اروند شرما، ہیمنت شرما اور روہت جاٹو کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم بلرام عرف روی کی تلاش جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔






