باروئی پور ریپ کیس کا مرکزی ملزم ہلاک، ماں نے لاش ٹھکرادی
باروئی پور ریپ و قتل کیس کے مرکزی ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں موت، والدہ نے جرم کی مذمت کرتے ہوئے لاش لینے سے انکار کردیا۔
مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ کے باروئی پور میں پیش آنے والے کم سن لڑکی کے مبینہ ریپ اور قتل کے مقدمے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس کیس کے مرکزی ملزم پربھاش منڈل کی ایک مبینہ پولیس مقابلے میں موت ہو گئی، جس کے بعد اس کی والدہ کا ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔ میڈیا کے مطابق پربھاش منڈل کی والدہ نے بتایا کہ دو پولیس اہلکار ان کے گھر آئے اور انہیں اطلاع دی کہ ان کے بیٹے کی موت ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ آیا وہ اسپتال جانا چاہتی ہیں یا نہیں۔ خاتون نے جواب دیا کہ وہ اسپتال نہیں جا سکتیں کیونکہ ان کے شوہر شدید علیل ہیں اور انہیں تنہا چھوڑنا ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس جو مناسب سمجھے وہ کرے، انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کے بقول ان کے بیٹے نے جو جرم کیا، اس کی سزا اسے مل گئی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی لاش وصول نہیں کریں گی اور نہ ہی اسے گھر لائیں گی، کیونکہ اس نے ایک سنگین اور ناقابلِ معافی جرم کیا تھا۔ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران شواہد کی کڑیاں ملانے کے لیے ملزم کو جائے وقوعہ پر لے جایا گیا تھا۔ اسی دوران اس نے مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار کا اسلحہ چھیننے کی کوشش کی اور پولیس پر فائرنگ کر دی۔ پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں چلنے والی گولی ملزم کو لگی، جس کے بعد اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
یہ پورا معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب گزشتہ اتوار باروئی پور کے ایک تالاب سے ایک کم سن لڑکی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا تھا۔ مشتعل مقامی افراد نے ایک نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہو گئی۔پولیس نے اس مقدمے میں کارروائی کرتے ہوئے پربھاش منڈل سمیت تین ملزمان، آنند سردار اور دیواکر سردار کو گرفتار کیا تھا۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جب کہ پولیس مقابلے کی تمام قانونی کارروائی بھی متعلقہ ضابطوں کے تحت مکمل کی جا رہی ہے۔






