ترنمول کے تین سابق راجیہ سبھا ارکان بی جے پی میں شامل
ترنمول کانگریس کے تین سابق راجیہ سبھا ارکان بی جے پی میں شامل ہوگئے، ضمنی انتخابات سے قبل بنگال کی سیاست میں نئی قیاس آرائیاں تیز ہوگئیں۔
مغربی بنگال کی سیاست میں پھر طوفان، ترنمول کانگریس کے تین سابق راجیہ سبھا اراکین، سشمیتا دیو، پرکاش چک بڑائیک اور سکھندو شیکھر رائے نے جمعرات کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کر لی۔ کولکاتا کے سالٹ لیک علاقے میں واقع بی جے پی کے ریاستی دفتر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ریاستی صدر شمیک بھٹاچاریہ کی موجودگی میں تینوں رہنماؤں نے پارٹی کا پرچم تھام کر اپنی نئی سیاسی اننگز کا آغاز کیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شمیک بھٹاچاریہ نے کہا کہ ان رہنماؤں کی شمولیت کو عام سیاسی روایت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بی جے پی اب بھی اپنی اس پالیسی پر قائم ہے کہ ترنمول کانگریس سے وابستہ ایسے افراد کو پارٹی میں شامل نہیں کیا جائے گا جن پر بدعنوانی یا دیگر سنگین الزامات ہوں۔ لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی رہنما اپنی صاف شبیہ اور بے داغ سیاسی کردار کے لیے جانا جاتا ہو تو اس کی شمولیت پر غور کیا جا سکتا ہے۔
تینوں سابق ارکانِ پارلیمنٹ کی بی جے پی میں آمد کے بعد مغربی بنگال کی سیاسی فضا میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑنے لگی ہیں کہ کیا آئندہ راجیہ سبھا کے ضمنی انتخابات میں پارٹی انہیں اپنا امیدوار بنائے گی۔ جب اس بارے میں ریاستی صدر سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کسی واضح جواب سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ قیاس آرائیاں جاری رہنے دیجیے۔واضح رہے کہ مغربی بنگال سے راجیہ سبھا کی تین نشستیں ان ہی رہنماؤں کے استعفوں کے بعد خالی ہوئی ہیں، جن پر 24 جولائی کو ضمنی انتخاب ہونا ہے۔ سکھندو شیکھر رائے نے سب سے پہلے 8 جون کو اپنی رکنیت اور پارٹی سے استعفا دیا تھا، جب کہ اس کے بعد 10 اور 11 جون کو سشمیتا دیو اور پرکاش چک بڑائیک نے بھی ترنمول کانگریس اور راجیہ سبھا کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب تقریب کے دوران سشمیتا دیو اور سکھندو شیکھر رائے نے بھی ترنمول کانگریس کو بدعنوانی کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پارٹی میں رہتے ہوئے ان پر کبھی کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا اور انہوں نے ہمیشہ شفاف سیاسی کردار برقرار رکھا۔ ادھر سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ پیش رفت مغربی بنگال کی سیاست، خصوصاً راجیہ سبھا کے ضمنی انتخابات، پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔






