خبرنامہ

انسٹاگرام اشتہارات پر حکومت سخت، میٹا سے وضاحت طلب کر لی

بھارت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر مبینہ طور پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق قابلِ اعتراض مواد کی تشہیر کے معاملے پر مرکزی حکومت نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں میٹا کو بھیجے گئے نوٹس کے باضابطہ جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق کمپنی کی جانب سے وضاحت موصول ہونے کے بعد ہی آئندہ کارروائی یا سرکاری موقف کا فیصلہ کیا جائے گا۔الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے سیکریٹری ایس کرشنن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میٹا کو جاری کیے گئے نوٹس کا باضابطہ جواب ابھی موصول نہیں ہوا، اس لیے حکومت فی الحال مزید تبصرہ کرنے کے بجائے کمپنی کی وضاحت کا انتظار کر رہی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ انسٹاگرام پر ایسے معاوضہ لے کر چلائے جانے والے اشتہارات موجود تھے جن کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق غیر قانونی مواد کی تشہیر یا اس تک رسائی کی کوشش کی جا رہی تھی۔ رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد اس معاملے نے حکومتی اداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ذرائع کے مطابق وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے میٹا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی کہ اس نوعیت کے تمام اشتہارات اور متعلقہ مواد کو فوری طور پر پلیٹ فارم سے ہٹایا جائے۔ اس کے ساتھ کمپنی سے سات دن کے اندر تفصیلی وضاحت بھی طلب کی گئی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ایسے مواد کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور آئندہ اس کی تکرار روکنے کے لیے کیا منصوبہ ہے۔
دوسری جانب میٹا نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ بچوں کا جنسی استحصال ایک انتہائی سنگین اور ناقابلِ قبول جرم ہے، اور کمپنی اپنے تمام پلیٹ فارمز پر اس کے خلاف سخت اقدامات کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق شکایات سامنے آنے کے بعد متعدد اشتہارات کو فوری طور پر غیر فعال کیا گیا، ان سے منسلک کئی اکاؤنٹس معطل کیے گئے اور ایسے لنکس بھی بلاک کر دیے گئے جو کمپنی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔میٹا نے مزید کہا کہ رپورٹ کے بعد داخلی جائزہ مزید سخت کیا گیا، اضافی مواد کو بھی ہٹایا گیا اور ایسے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی گئی جو پلیٹ فارم کے ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین، خصوصاً بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے نگرانی کے نظام کو مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر اب سب کی نظریں حکومت اور میٹا کے درمیان ہونے والی آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کمپنی کی باضابطہ وضاحت موصول ہونے کے بعد حکومت مزید اقدامات یا ممکنہ کارروائی کے حوالے سے اپنا حتمی فیصلہ سامنے لائے گی۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر