امریکہ ایران معاہدے کی امید، خام تیل کی قیمتوں میں کمی
امریکہ اور ایران معاہدے کی توقعات بڑھیں، عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوا، سرمایہ کار ممکنہ سفارتی پیش رفت پر نظریں جمائے ہوئے ۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت اور جوہری معاہدے سے متعلق مثبت اشاروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کی توقع نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمتیں دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔بین الاقوامی توانائی منڈی کے اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت کئی ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ تجارتی سرگرمیوں کے دوران برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 87 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی کم ہو کر تقریباً 85 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، جو حالیہ مہینوں کی نچلی سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اس کمی کی ایک بڑی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبریں ہیں۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر دونوں ممالک کسی سمجھوتے پر پہنچ جاتے ہیں تو ایران کی تیل برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی بڑھ جائے گی اور قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اس وقت سیاسی اور سفارتی اشاروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ کسی بھی مثبت پیش رفت کا براہِ راست اثر تیل کی تجارت اور عالمی توانائی منڈی پر پڑ رہا ہے۔ سرمایہ کار اس امکان کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں کہ پابندیوں میں نرمی کی صورت میں ایران عالمی تیل مارکیٹ میں زیادہ سرگرم کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ دنوں میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران عندیہ دیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین ماضی کے مقابلے میں کسی معاہدے کے کہیں زیادہ قریب ہیں اور آنے والے چند دنوں میں اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف عالمی تیل منڈی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتحال پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی مالیاتی اور توانائی مارکیٹیں ان مذاکرات کے نتائج کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں۔






