مارپیٹ مقدمہ، پانچ ملزمان رہائی کے بعد سرخیوں میں
جے پور احتجاج کیس میں گرفتار پانچ نوجوانوں کو ضمانت، رہائی کے بعد پھول مالوں سے شاندار استقبال کیا گیا۔
راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں حالیہ احتجاج کے دوران پیش آئے حملے کے معاملے میں گرفتار کیے گئے پانچ نوجوانوں کو عدالت سے ضمانت مل گئی ہے۔ پیر کے روز ایک احتجاجی پروگرام کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دیپکے کے ساتھ مبینہ طور پر ہاتھا پائی اور مارپیٹ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو حراست میں لیا تھا۔
منگل کو عدالت نے تمام گرفتار نوجوانوں کی ضمانت منظور کر لی۔ عدالتی حکم کے مطابق ہر ملزم کو بیس ہزار روپے کے مچلکے پر رہا کیا گیا ہے، جبکہ انہیں آئندہ چھ ماہ تک امن و امان کی پابندیوں کی شرائط پر عمل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ضمانت ملنے کے بعد نوجوانوں کے حامیوں نے ان کا استقبال کیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رہا ہونے والے افراد کو پھولوں کی مالائیں پہنائی گئیں اور ان کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے۔ یہ ویڈیوز تیزی سے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی ہیں اور عوامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔
یہ واقعہ جے پور کے مشہور شہید اسمارک پر منعقد کیے گئے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران پیش آیا تھا۔ مذکورہ احتجاج مبینہ امتحانی پرچہ لیک معاملے کے خلاف کیا گیا تھا، جس میں مختلف افراد نے شرکت کی تھی۔ پروگرام کے دوران اچانک کشیدگی پیدا ہوئی اور ابھجیت دیپکے کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد دھکم پیل اور مارپیٹ کی نوبت آ گئی۔واقعے کی اطلاع ملنے پر جے پور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کئی افراد کو حراست میں لیا۔ بعد ازاں تفتیش کے دوران پانچ نوجوانوں کو باقاعدہ گرفتار کیا گیا، جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جن پر براہِ راست حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس معاملے نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب واقعے کی مذمت کی جا رہی ہے تو دوسری جانب ضمانت کے بعد ملزمان کے استقبال کی ویڈیوز بھی مختلف ردِعمل کو جنم دے رہی ہیں۔ فی الحال مقدمے کی قانونی کارروائی جاری ہے اور آئندہ سماعتوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔






