رومانیہ میں روسی ڈرون حادثے پر ماسکو اور بخارسٹ میں کشیدگی
رومانیہ میں روسی ڈرون گرنے کے بعد سفارتی کشیدگی بڑھ گئی، روسی سفارت کار کو ملک بدر کرنے کا اعلان کردیا گیا۔
رومانیہ میں ایک رہائشی عمارت سے مبینہ روسی ڈرون ٹکرانے کے واقعے کے بعد روس اور رومانیہ کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ روسی حکومت اور وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ صدر ولادیمیر پوتن کو رومانیہ میں پیش آنے والے ڈرون واقعے کی مکمل معلومات دے دی گئی ہیں۔ دوسری جانب روسی وزارتِ خارجہ نے بھی اس معاملے پر رومانیہ کے اقدامات کا جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رومانیہ نے روسی سفارت کار کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے اُسے “پرسونا نان گراٹا” قرار دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ سفارت کار کو ملک چھوڑنا ہوگا۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک رومانیہ میں ڈرون کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ یوکرین جنگ سے متعلق دیگر مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکےادھر رومانیہ کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یوکرین کی سرحد کے قریب واقع شہر گالاتی میں ایک اپارٹمنٹ کی عمارت پر ڈرون گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے۔ رومانیہ کے حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈرون روسی ساخت کا تھا۔
رومانیہ کی وزیرِ خارجہ اوآنا توئیو نے کہا کہ وزارتِ دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عمارت سے ٹکرانے والا ڈرون روس سے منسلک تھا۔ واقعے کے فوراً بعد رومانیہ نے روسی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
مقامی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ رومانیہ کے صدر نکوشور دان نے جنوب مشرقی شہر کانسٹانٹا میں قائم روسی قونصل خانے کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روسی سفارتی عملے کے بعض ارکان کو ملک بدر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ یورپی ممالک بھی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔





